وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ مالیاتی ایمرجنسی نافذ ہے اور نہ ہی کی جائیگی۔ پیٹرول کی قیمت میں دو مرتبہ اضافہ کے بعد ہم مالیاتی بحران سے باہر آ گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فارن کرنسی اکائونٹس، روشن ڈیجیٹل اکائونٹس یا شہریوں کے پرائیوٹ لاکرز کو منجمد کرنے کا قطعاً کوئی منصوبہ نہیں، اس حوالہ سے سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔
There is absolutely no plan to freeze foreign currency accounts or Roshan Digital Accounts or take over people private lockers. We have never even contemplated these steps. Nor will we ever do it. Speculation on social media about this is wrong and coming from biased quarters.
— Miftah Ismail (@MiftahIsmail) June 6, 2022
پیر کو اپنی ٹویٹس میں وزیر خزانہ نے کہا کہ فارن کرنسی اکائونٹس کو منجمد کرنے، روشن ڈیجیٹل اکائونٹس یا شہریوں کے پرائیوٹ لاکرز کو فریز کرنے کا قطعاً کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس طرح کے قدامات پر ہم نے کبھی غور بھی نہیں کیا ہے اور نہ ہی کریں گے۔ اس حوالہ سے سوشل میڈیا پرقیاس آرائیاں غلط، بے بنیاد اورحقائق کے منافی ہیں اوریہ قیاس آرائیاں جانبدارانہ حلقوں کی جانب سے آرہی ہے۔
The Prime Minister will at some point announce austerity measures to save government expenditures. But there is not going to be any declaration of financial emergency. Nor is there any financial emergency. After two increases in petrol prices, we are out of the financial crisis.
— Miftah Ismail (@MiftahIsmail) June 6, 2022
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم حکومتی اخراجات اور مصارف میں بچت کیلئے کسی مرحلہ پر کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان کریں گے۔ مالیاتی ایمرجنسی نافذ نہیں کی جائیگی اورنہ ہی مالیاتی ایمرجنسی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں دو مرتبہ اضافہ کے بعد ہم مالیاتی بحران سے باہر آ گئے ہیں۔