مہنگائی کے طوفان اور شہر میں سیاسی کھینچا تانی کی وجہ سے جرائم پھر سے بڑھ گئے ہیں. شہریوں کو گھروں کی دہلیز
پر ہی لوٹ لیا اور قتل کر دیا جاتا ہے. شہر میں قیام امن کے لیے رینجرز سمیت دیگر ایجنسیوں کی مدد بھی حاصل ہے لیکن
پھر بھی راہ زن دن دنتے پھرتے اور شہریوں کو لوٹتے مارتے پھرتے ہیں.
کراچی میں رواں سال اب تک 34 شہری ڈکیتی مزاحمت پر قتل اور 165زخمی ہوچکے ہیں۔رپورٹس کے مطابق رواں سال
گھروں میں ڈکیتیوں کی 183 وارداتیں جبکہ فیکٹریوں، دفتروں اور دکانوں میں ڈکیتی کی 424 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔
کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کی رپورٹڈ وارداتوں کی تعداد 2043 ہے۔ اس سال اب تک 11749 شہریوں سے موبائل فون
چھینے جاچکے ہیں۔ کہنے کو ہر کونے پر پولیس اور رینجرز کی موبائلز کھڑی ہوتی ہیں لیکن جرائم پیشہ افراد بغیر
خوف و خطر اپنی کارروائیاں کر کے فرار بھی ہو جاتے ہیں.
No related posts.