روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے اپنے دورہ سربیا کے راستے میں رکاوٹ ڈالے جانے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
مونٹی نیگرو، شمالی مقدونیہ اور بلغاریہ کے اپنے فضائی حدود بند کرنے کی وجہ سے لارورف کو دورہ سربیا منسوخ کرنا پڑا جس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ یہ چیز یورپی یونین اور نیٹو نے اپنا اصول بنا لی ہے اور حقائق کے مقابل ان کے خوف میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
روس صدارتی پیلس کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی دارالحکومت ماسکو میں، مونٹی نیگرو، شمالی مقدونیہ اور بلغاریہ کی طرف سے لاوروف کے طیارے کو گزرنے کی اجازت نہ دئیے جانے پر، اخباری نمائندوں کے لئے بیان جاری کیا ہے۔
پیسکوف نے کہا ہے کہ ہمارے ملک اور ہمارے ملک کے اعلیٰ سطحی حکام کے بارے میں اس نوعیت کے مخاصمانہ اقدامات یقیناً بعض مسائل کا سبب بن سکتے ہیں اور ان ملاقاتوں کے شیڈول کو آئندہ تاریخوں تک منتقل کر سکتے ہیں۔
پیسکوف نے کہا ہے کہ یہ اقدامات روس اور دیگر ممالک کے درمیان رابطوں کو متاثر نہیں کر سکیں گے۔
دوسری طرف سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔”روسی، یوکرینی، بیلاروسی اور سرب جنگ کے مقابل متحد” نامی گروپ کی طرف سے کئے گئے احتجاجی مظاہرے میں مظاہرین نے کہا ہے کہ روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف کا دورہ بلغراد صرف نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
مظاہرین نے اپنی فضائی حدود کو لاوروف کے طیارے کے لئے بند کرنے پر شمالی مقدونیہ، بلغاریہ اور مونٹی نیگرو کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے "شکریہ ہمسائیو آپ نے سربیا کو شرمندگی سے بچا لیا ہے” کی تحریر والے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔
بعض شہریوں نے مظاہرے کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا تاہم مظاہرہ پولیس کی نگرانی میں پُرامن شکل میں اختتام پذیر ہو گیا۔