ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

یورپی یونین: صدر پوتن کی جنگ غذائی بحران کو ہوا دے رہی ہے

یورپی یونین نے کہا ہے کہ یوکرین کے اناج کو عالمی منڈیوں میں پہنچانے کا موزوں ترین راستہ بحیرہ اسود کی بندرگاہیں ہیں لہٰذا ان بندرگاہوں کا فوری طور پر کھُلنا ضروری ہے۔

یورپی یونین کمیشن کی سربراہ اُرسولا وان ڈر لئین نے فرانس کے شہر سٹراس برگ میں منعقدہ یورپی پارلیمانی جنرل کمیٹی اجلاس میں ممبرانِ اسمبلی سے خطاب کیا۔

ڈرلئین نے کہا ہے کہ رواں سال میں کم از کم 275 ملین افراد کو غذائی قلت کا خطرہ لاحق ہے۔ متعدد ممالک میں افراطِ زر کی وجہ سے غذائی سلامتی کے خطرے میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ 24 فروری سے روس کی یوکرین کے خلاف شروع کردہ جنگ نے ان منفی اثرات کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ پابندیاں روس اور تیسرے ممالک کے درمیان اناج یا پھر دیگر غذائی اجناس کی تجارت کو متاثر نہیں کر رہیں۔ غذائی اجناس کو بندرگاہ کی پابندیوں سے معاف رکھا جا رہا ہے۔ غذائی بحران کو ہوا دینے والا عنصر صدر ولادی میر پوتن کی جنگ ہے”۔

ڈر لئین نے کہا ہے کہ "یوکرین کی بحیرہ اسود کی بندرگاہوں کا دوبارہ فعال ہونا دنیا کی ضرورت ہے کیونکہ یوکرین کے اناج کو بروقت صرف اور صرف بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے برآمد کی جا سکتا ہے۔ اس معاملے میں کی جانے والی کوششوں پر ہم اقوم متحدہ کے شکرگزار ہیں”۔

یورپی یونین کونسل کے سربراہ چارلس میشل نے بھی کہا ہے کہ "یورپی یونین کی روس پر عائد کردہ پابندیاں غذائی اجناس کا احاطہ نہیں کرتیں۔ میں غذائی بحران کے شکار تمام ممالک کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ روسی پروپیگنڈے کے فریب میں نہ آئیں”۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں