صدر رجب طیب ایردوان کا بیان کہ ترکی کی سرحدوں پر دہشت گردی کے خطرات کا قلع قمع کرنے کے زیر مقصد تل رفعت اور منبج کو پی کے کے /وائے پی جی عناصر سے پاک کیا جائیگا ، شام کے اندر وسیع پیمانے کے ہیجان کا موجب بنا ہے تو ترک مسلح افواج اور شامی قومی فوج کی لازمی تیاریاں کرتے ہوئے مذکورہ علاقوں میں جامع عسکری کاروائیاں شروع کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ یوکیرن بحران سے پیدا ہونےو الی نئی جیو پولیٹیکل مساوات کے شام پر اثرات کا مشاہدہ ہونے لگا ہے۔
سیتا فارن پالیسی تحقیق دان جان اجون کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔۔
صدر ایردوان کے دو ٹوک بیانات کے بعد اب تمام تر نگاہیں دوبارہ سے شامی سرزمین پر مرکوز ہو گئی ہیں تو ترک مسلح افواج اور شامی قومی فوج نے لازمی فوجی تیاریاں کرتے ہوئے تل رفعت اور منبج علاقوں PKK ۔ وائے پی جی کے عناصر کو ہدف بنانے لیے احکامات کا انتظار کرنا شروع کر دیا ہے۔
PKK ۔ وائے پی جی دہشت گرد تنظیم نے 2016 میں روس کے فضائی تعاون کے ساتھ تل رفعت پر قبضہ کرتے ہوئے وہاں کے مکینوں کو تنہا کر دیا تھا، اس کے بعد PKK ۔ وائے پی جی کے عناصر نے امریکی فضائیہ کی مدد سے داعش کے خلاف نبرد آزما ہونے کی آڑ مین منبج کا کنٹرول بھی اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے ان دونوں علاقوں میں اپنی حاکمیت قائم کر لی تھی اور وہاں کے نوجوانوں اور بچوں کو زبردستی اسلحہ تھمایا تھا، عرب اور ترکمانی شہریوں کو جلا وطن کرتے ہوئے علاقے کے ڈیموگرافیک ڈھانچے کو بگاڑنے کی چالیں چلنی شروع کر دی تھیں۔
اس بات کا مشاہدہ ہورہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم PKK ۔ وائے پی جی ان دونوں علاقوں کو عزیز، عفرین، باب، جرابلس شہروں میں دہشت گرد کاروائیاں کرنے کے لیے کسی اڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ ترکی قومی سلامتی کےقیام اور شامی علاقوں میں استحکام اور تحفظ کا ماحول پیدا کرنے کے لیے اوپر بیان کردہ مقامات کو دہشت گرد عناصر سے پاک کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
آخر کار تل رفعت اور منبج میں موجود PKK کے عناصر روس اور ملکی انتظامیہ کی سرپرستی میں اپنے وجود کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو یوکیرین بحران سے جنم پانے والی نئی جغرافیائی سیاسی مساوات ترکی کو کاروائیاں کرنے کی جانب دھکیل رہی ہے۔ ترکی، روس کے ساتھ سفارتی مذاکرات کے ذریعے اس عمل میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے روس کے شام کے مذکورہ علاقوں سے انخلا کی کوششیں کر رہا ہے۔ متعلقہ مذاکرات کے بعد ترک مسلح افواج اور شامی قومی فوج کے کاروائی شروع کرنے اور نمایاں سطح کی مزاحمت کے بغیر ہی ان مقامات کو دہشت گردوں سے پاک کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہونے کا اندازہ کرنا ذی فہم ہوگا۔