ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پرویز مشرف کی زندگی پر نظر

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف 11 اگست 1943ء کو ہندوستان کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے. جنرل پرویز مشرف نے بھارت کے
ساتھ ہونے والی دونوں جنگوں یعنی پاک بھارت جنگ 1965ء اور پاک بھارت جنگ 1971ء میں حصہ لیا اور کئی فوجی
اعزازات حاصل کیے
جب 12 اکتوبر 1999ء میں نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو معطل کر کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل خواجہ ضیاء الدین
کو نیا آرمی چیف مقرر کرنا چاہا تو اس وقت جنرل پرویز مشرف ملک سے باہر سری لنکا میں سرکاری دورے پر گئے ہوئے تھے
اور ملک واپس آنے کے لیے ایک کمرشل طیارےپر سوار تھے۔ تب فوج کے اعلیٰ افسران نے ان کی برطرفی کو مسترد کر دیا اور بغاوت کر دی۔ وطن پہنچ کر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی منتخب جمہوری حکومت کو معزول کر دیا اور ان کے خلاف ایک کیس تیار کر دیا۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی اور تین سالوں میں الیکشن کروانے کا وعدہ کیا
20 جون 2001ء کو ایک صدارتی استصوابِ رائے کے ذریعے صدر کا عہدہ اختیار کیا۔ پرویز مشرف پاکستان کے دسویں صدر تھے۔ اس سے قبل وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کہلاتے تھے۔

20 مئی 2000ء میں عدالت عظمیٰ پاکستان نے جنرل پرویز مشرف کو حکم دیا کہ وہ اکتوبر 2002ء تک انتخابات کروائیں۔ اپنے
اقتدار کو طول دینے اور محفوظ کرنے کی غرض سے انہوں نے 30 اپریل 2002ء میں ایک صدارتی ریفرینڈم کروایا۔ جس
کے مطابق 98 فیصد عوام نے انہیں آئندہ 5 سالوں کے لیے صدر منتخب کر لیا۔ البتہ اس ریفرینڈم کو سیاسی جماعتوں کی
اکثریت نے مسترد کر دیا اور اس کا بائیکاٹ کیا۔

اکتوبر 2002 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) نے قومی اسمبلی کی اکثر سیٹیں جیت لیں۔ یہ جماعت اور
جنرل پرویز مشرف ایک دوسرے کے زبردست حامی تھے۔ دسمبر 2003 میں جنرل پرویز مشرف نے متحدہ مجلس عمل کے
ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ دسمبر 2004 تک وردی اتار دیں گے لیکن انہوں نے اپنے اس وعدے کو پورا نہ کیا۔ اس کے بعد
جنرل پرویز مشرف نے اپنی حامی اکثریت سے قومی اسمبلی میں سترہویں ترمیم منظور کروا لی جس کی رو سے انہیں
پاکستان کے باوردی صدر ہونے کا قانونی جواز مل گیا۔
پرویز مشرف فوج کے سربراہ کے عہدے سے نو سال بعد 28 نومبر 2007ء کو سبکدوش ہو گئے۔ 29 نومبر 2007ء کو پانچ سال
کے نئے دور کے لیے صدر کا حلف اُٹھایا، لیکن فوجی وردی کے بغیر وہ اس عہدے پر نو مہینے بھی برقرار نہ رہ سکے۔

پرویز مشرف نے 18 اگست، 2008 کو قوم سے خطاب میں اپنے مستعفی ہو نے کا اعلان کیا۔ اُن کی جگہ آئین کے تحت سینٹ
کے چیئر مین میاں محمد سومرو نے عبوری صدر کا عہدہ سنبھالا۔ پارلیمنٹ کو ایک مہینے کے اندر اندر نئے صدر کا انتخاب
کرنا تھا۔ چنانچہ 18 فروری کے عام انتخابات 2008ء کے بعد نئی حکومت کے آصف علی زرداری نے نئے صدر کا حلف اٹھایا۔

صدارت سے ہٹنے کے کچھ دیر بعد مشرف برطانیہ جا کر مقیم ہو گئے۔ 2011ء میں زرداری حکومت نے بے نظیر قتل مقدمہ کی
تفتیش کی خاطر مشرف کو پاکستان واپس بھیجنے کا برطانیہ سے مطالبہ کیا جو برطانیہ نے رد کر دیا
17 دسمبر 2019ء کو ، پاکستان کی خصوصی عدالت نے غداری کے الزامات کے تحت انھیں سزائے موت سنائی
پرویز مشرف برطانیہ سے دبئی چلے گئے اور وہیں سکونت اختیار کی اور اپنے آخری ایام بھی دبئی میں گزارے

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں