ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بی جے پی رہنماؤں کے گستاخانہ بیان پر ایشیا بھر کے مسلم ممالک میں احتجاجی مظاہرے

بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں کی جانب سے پیغمبر اسلام (ﷺ) سے متعلق نازیبا تبصروں کے ردعمل میں گزشتہ روز جمعہ کی نماز کے بعد ایشیا بھر کے ممالک میں مسلمان زبردست احتجاجی مظاہروں کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

گزشتہ ہفتے سے عالم اسلام میں غصے کی لہر دوڑ گئی ہے جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت کی ترجمان نے ایک ٹی وی شو کے دوران پیغمبر اسلام (ﷺ)کے بارے میں توہین آمیز تبصرہ کیا۔

اس کے بعد سے تقریباً 20 ممالک نے اپنے ملک میں موجود بھارتی سفیروں کو طلب کیا اور بھارت کو سفارتی سطح پر چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، بی جے پی کی جانب سے مذکورہ عہدیدار کو معطل کر دیا گیا ہے اور تمام مذاہب کا احترام کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

اس تنازع کے ردعمل میں گزشتہ روز مختلف ممالک کی سڑکوں پر اس حوالے سے اب تک کا سب سے بڑا احتجاج دیکھنے میں آیا، بنگلہ دیش میں پولیس کے اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد لوگ نماز جمعہ کے بعد سڑکوں پر جمع ہوئے۔

“دارالحکومت ڈھاکہ میں مظاہرین میں شامل ایک شخص امان اللہ امان نے کہا کہ ’ہم آج یہاں بھارتی حکومت کے عہدیداروں کی جانب سے ہمارے پیغمبر (ﷺ) کی توہین کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمع ہیں۔‘

شہر میں ہجوم نے نریندر مودی کی مذمت میں نعرے لگاتے ہوئے ذمہ داران کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا اور اسلام دشمنوں کو خبردار کیا کہ وہ ’ہوشیار رہیں‘۔

پاکستان میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے نماز جمعہ کے بعد لاہور میں مارچ کیا، ٹی ایل پی کے تقریباً 5 ہزار کارکنان شہر کے مرکز میں احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوئے اور حکومت سے اس گستاخانہ تبصرے پر بھارت کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

احتجاج میں موجود ایک اسکول کے استاد عرفان رضوی نے کہا کہ ’پیغمبر اسلام (ﷺ) کے حرمت ہمارے لیے سرخ لکیر ہے، بھارت یا کسی بھی اور ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام کے محافظ خاموش نہیں رہیں گے‘۔

بھارت میں احتجاج

بھارت میں مسلم اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے کئی شہروں میں مظاہرے کیے، ایک بڑا ہجوم نئی دہلی میں جامع مسجد کی سیڑھیوں پر جمع ہوا۔

سوشل میڈیا فوٹیج میں دارالحکومت میں دیگر مقامات پر جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے طلبہ کو بی جے پی کی برطرف ترجمان نوپور شرما کا پتلا جلاتے ہوئے دکھایا گیا جن کے متنازع بیان نے یہ ہنگامہ کھڑا کیا۔

دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا میں تقریباً 50 مظاہرین نے جکارتہ میں بھارتی سفارت خانے کے سامنے ایک ریلی نکالی۔

احتجاج کے منتظم علی حسن نے کہا کہ ’بھارتی حکومت کو مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہیے اور انہیں ایسے سیاستدانوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔‘

منبع: ڈان نیوز

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں