ویب ڈیسک —
معروف ٹی وی میزبان اور رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو سپردِ خاک کردیا گیا ہے۔ ان کی تدفین کا عمل پولیس کی جانب سے پوسٹ مارٹم کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کے باعث تاخیر کا شکار ہوگیا تھا۔
عامر لیاقت حسین کی نماز جنازہ اُن کے صاحبزادے احمد عامر نے پڑھائی جس کے بعد اُنہیں عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ کلفٹن میں جامع مسجد عبداللہ شاہ غازی مسجد میں ادا کی گئی جس میں عامر لیاقت حسین کے عزیز و اقارب اور مداحوں نے شرکت کی۔
تدفین کے عمل میں تاخیر
اس سے قبل اُن کی تدفین کا معاملہ تاخیر کا شکار ہو گیا تھا۔ پولیس حکام نے اُن کی موت کی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم پر اصرار کیا تھا۔ تاہم مرحوم کی سابقہ بیوی نے کہا تھا کہ اُن کے وارثین بیٹا اور بیٹی بغیر پوسٹ مارٹم کے اُن کی تدفین چاہتے ہیں۔
پولیس کا کہنا تھا کہ اگر عامر لیاقت حسین کے ورثا لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کرانا چاہتے تو عدالت کا حکم نامہ لائیں۔ پولیس نے مجسٹریٹ کی عدالت میں دائر درخواست میں کہا تھا کہ ضابطۂ فوج داری کی سیکشن 174 کے تحت مجسٹریٹ مرنے والے کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کا حکم دے سکتا ہے۔
بعد ازاں ترجمان پولیس نے ایک بیان میں کہا تھاکہ پولیس سرجن نے لاش کی ابتدائی جانچ کے بعد رپورٹ دے دی ہے جس کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کردیا گیاہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت جمعرات کو کراچی کے علاقے خداداد کالونی میں واقع اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ ان کی لاش اس وقت فلاحی ادارے چھیپا کے سرد خانے میں رکھی گئی تھی۔
مجسٹریٹ سے رجوع کرنے سے قبل پولیس نے چھیپا ویلفیئر کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا تھا کہ عامر لیاقت کی میت کسی کے حوالے نہ کی جائے۔
خط میں پولیس کا کہنا تھا کہ لاش امانت کےطورپرسردخانےکےسپردکی گئی ہے جسے بریگیڈ تھانے کا عملہ وصول کرے گا اور اسے کسی کے حوالے نہ کیا جائے۔