ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

راہول گاندھی کی منی لانڈرنگ کیس میں پیشی، احتجاج کرنے والے کانگریس کے کٗیئ رہنما گرفتار

بھارت میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کے مرکزی رہنما راہول گاندھی پیر کو منی لانڈرنگ کے ایک کیس میں بیان قلم بند کرانے کے لیے تحقیقاتی ادارے ‘انفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ’ کے روبرو پیش ہوگئے ہیں۔ ان کے ہمراہ کانگریس کی جنرل سیکریٹری اور بہن پریانکا گاندھی بھی تھیں۔

راہول گاندھی کی پیشی سے قبل کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنوں نے نئی دہلی میں پارٹی مرکز کے باہر احتجاج کیا۔ کارکنوں نے راہول گاندھی کے حق میں اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

کانگریس کی جانب سے انفورسمیٹ ڈائریکٹوریٹ کے دفتر کے باہر اور شہر کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ پولیس نے تحقیقاتی ایجنسی کے دفتر کے باہر احتجاج کرنے والے کانگریس کے کئی سینئر رہنماوں سمیت متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

یاد رہے کہ انفورسمیٹ ڈائریکٹوریٹ نے حال ہی میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور ان کے صاحبزادے راہول گاندھی کو ‘نیشنل ہیرالڈ’ کیس میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا۔

کرونا وائرس کا شکار ہونے کی وجہ سے سونیا گاندھی نے انفورسمیٹ ڈائریکٹوریٹ کے روبرو پیش ہونے کے لیے تین ہفتوں کی مہلت طلب کی تھی جب کہ راہول گاندھی کو بیان قلم بند کرانے کے لیے آج پیش ہونا ہے۔


واضح رہے کہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما سبرامانین سوامی نے گاندھی خاندان کے خلاف 2012 میں یہ کیس درج کرایا تھا جو مقامی سطح پر ‘نیشنل ہیرالڈ’ کیس کے نام سے جانا جاتا ہے۔

گاندھی خاندان پر الزام ہے کہ اس نے پارٹی فنڈز کا غیر قانونی استعمال کرتے ہوئے 20 ارب روپے سے زیادہ جائیداد کے اثاثوں کو حاصل کرنے کے لیے سرکاری ادارے ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (اے جے ایل) پر قبضہ کیا جو سرکاری اخبار نیشنل ہیرالڈ شائع کرتا تھا۔ تاہم کانگریس نے ان الزامات کی بارہا تردید کی ہے۔

کانگریس کے رہنما رندیپ سنگھ سرجیوالا نے پیر کو پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آزادی کی جدوجہد کے دوران برطانیہ کانگریس کی آواز دبانے میں ناکام رہا تو موجودہ حکومت کس طرح یہ آواز دبا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی بھاری نفری تعینات کر کے مودی حکومت نے کانگریس کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے بقول "ہم آئین کے محافظ ہیں، نہ ہی خوفزدہ ہوں گے اور نہ ہی جھکیں گے۔”

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں