الیکشن کمیشن نے بعض سیاسی شخصیات کی طرف سے الیکشن کمیشن اورچیف الیکشن کمشنر پر لگائے گئے الزامات کی سختی سے مذمت اور تردید کی ہے۔منگل کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا ہے کہ
پچھلے چند روز سے مسلسل میڈیا پر بعض سیاسی شخصیات کی طرف سے الیکشن کمیشن اورچیف الیکشن کمشنر پر بے بنیاد و حقیقت کے برعکس اور غیر ذمہ دارانہ الزامات لگائے گئے ہیں،
الیکشن کمیشن ان الزامات کی سختی سے مذمت اور تردید کرتا ہے،کمیشن نے پنجاب کے 20حلقوں میں شفاف الیکشن کے لئےمناسب انتظامات کئے ہوئے ہیں جیسا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں کئے گئے تھے اورمذکورہ انتخابات میں پولنگ میں رکاوٹ ڈالنے اور غیر قانونی اقدام اٹھانے پر الیکشن کمیشن نے نہ صرف فوری نوٹس لیا
بلکہ بااثر لوگوں کے خلاف بلا امیتاز بھر پور کارروائی بھی کی ۔اور آئندہ بھی تمام انتخابات میں ایسا ہی کرتا رہے گا۔ نیز یہ تاثر بھی غلط پھیلایا جارہا ہے کہ ووٹرز کو جان بوجھ کر دور درازشفٹ کر دیا گیا ہے اورحلقہ بندی کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے حالانکہ پنجاب میں 20حلقوں میں ضمنی الیکشن موجودہ انتخابی فہرستوں اور حلقہ بندیوں پر ہو رہے ہیں ۔
جبکہ 2023کے عام انتخابات کے لئے غیر حتمی انتخابی فہرستیں ڈسپلے سنٹرز میں رکھ دی گئی ہیں تاکہ تمام ووٹرز کے اندراج اور کوائف کی در ستگی کو یقینی بنایا جا سکے،الیکشن کمیشن ووٹر ز کو یقین دلاتا ہے کہ پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی الیکشن شفاف اور مروجہ قانون کے مطابق ہونگے
اور اس پر کسی کو بھی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے اور خلاف ورزی کرانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔امید کی جاتی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں آئندہ ایسے بے بنیاد الزامات سے اجتناب کریں گی۔