ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارت، روس سے، فی بیرل 30 ڈالر رعایتی قیمت پر پیٹرول خرید رہا ہے

روس، عراق کے بعد بھارت کا دوسرا بڑا پیٹرول سپلائر بن گیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارت نے مئی میں روس سے 25 ملین بیرل پیٹرول خریدا جو اس کی  کُل پیٹرول درآمدات کا 16 فیصد  ہے۔

بھارت کا خرید کردہ روسی خام پیٹرول ماہِ اپریل میں پہلی دفعہ ، 2021 اور 2022 کی پہلی تہائیوں میں براستہ سمندر درآمد کئے گئے کُل ایک فیصد سے کم پیٹرول کے مقابلے میں، 5 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

گذشتہ ماہ  میں عراق، بھارت کے پہلے پیٹرول سپلائر کے درجے پر برقرار رہا لیکن سعودی عرب  روس سے پچھلی صف میں آ کر تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت، دنیا کا تیسرا بڑا پیٹرول درآمد کنندہ  ہے اور 24 فروری کو روس۔ یوکرین جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک روس سے خام پیٹرول کی درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔

بھارت وزارت پیٹرول نے گذشتہ ماہ روس سے خریدی گئی توانائی کے کُل ملکی ضرورت کے جزوی  حصے تک رہنے کا اعلان کیا تھا۔

یوکرین جنگ کی وجہ سے مختلف پابندیوں کے نتیجے میں روس کے خام پیٹرول کے ساتھ دلچسپی میں کمی ہو گئی ہے تاہم بھارت، گلوبل انرجی قیمتوں میں اضافے  کے اس دور میں اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے سستے روسی پیٹرول سے استفادے کو ترجیح دے رہا اور فی بیرل 30 ڈالر رعایتی قیمت پر روسی پیٹرول خرید رہا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں