ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

روس کے ساتھ سستے تیل کے معاہدے کی حقیقت کیا ہے؟ سچ سامنے آگیا

روس کیساتھ سستے تیل کے معاہدوں پر سابق وزیراعظم عمران خان کے دعوؤں کی حکومت نے قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔

حکومت پاکستان کے آفیشل ٹویٹر اکائونٹ سے جاری پیغام میں روس کیساتھ کم قیمت تیل کی ڈیل بارے میڈیا میں زیر گردش خبروں پر وضاحت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روسی سفیر نے ایسے کسی بھی معاہدے کے دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

حکومت پاکستان کے ٹویٹر پیغام میں کہا گیا کہ 30 فیصد سستے پیٹرول کا دعویٰ کرنے والوں نے 300 فیصد مہنگی گیس کے سودے کئے۔ یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے ک بھارت کو روس سے سستا تیل مل رہا ہے حالانکہ خود روس میں اس وقت پیٹرول کی قیمت 188 روپے فی لیٹر اور بھارت میں 270 روپے فی لیٹر ہے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ یہ سراسر الزام ہے کہ موجودہ حکومت نے روس کے ساتھ ڈیل کو ختم کر دیا ہے۔

ٹویٹر پیغام میں کہا گیا ہے کہ 2020ء میں جب پاکستان کو پیٹرولیم مصنعات کی شدید اور بدترین قلت کا سامنا کرنا پڑا تب بھی ایسی کوئی تجویز سامنے نہیں لائی گئی اور تحریک عدم اعتماد کے سامنے آنے تک ایسے کسی بھی معاہدے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے کسی معاہدے یا ایم او یو پر دستخط نہیں ہوئے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں