مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک شیر کے حملے سے تین بچے موت کے منہ میں چلے گئے۔
اوری کے علاقے میں آوارہ گھومنے کا تخمینہ لگائے گئے ایک شیر کے تین بچوں کو مار ڈالنے کے بعد حکام نے اس جانور کو پکڑنے کی صورت میں تلف کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
برناطہ گاوں میں ایک 12 سالہ بچی کی جنگل سے نعش برآمد ہوئی تھی۔ اب مزید دو دیہاتوں سے 13 اور 15 سال کے دو بچوں کی نعشیں برآمد ہوئی ہیں جن کے شیر کے حملے کا نشانہ بننے کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
حکام نے عوام کو جانور کو تلف کیے جانے تک بڑی احتیاط سے کام لینے اور بچوں کو تنہا جنگلوں میں جانے کی اجازت نہ دینے پر خبردار کیا ہے۔