صدر کے اطلاعاتی امور کے ڈائریکٹر فخر الدین آلتون نے کہا کہ اقوام متحدہ کو عالمی امن، فلاح و بہبود اور انصاف کے نظریات پر مبنی "ایک منصفانہ دنیا ممکن ہے” کی اپیل کرتے ہوئے اسے نئے سرے سے تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
فخر الدین آلتون نے ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں پریسیڈنسی آف کمیونیکیشنز کے زیر اہتمام "اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات: بین الاقوامی آرڈر پینل کی تعمیر نو کے لیے ایک نیا نقطہ نظر” میں ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے شرکاء سے خطاب کیا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ کی بنیاد 1945 میں 51 ممالک نے رکھی تھی جس میں ترکی بھی ایک بانی رکن تھا، تاکہ دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں ہونے والی تباہی و بربادی کے بعد دنیا میں دوبارہ ایسی تباہ کن جنگوں کو ہونے سے روکا جا سکے اور تنظیم کی جانب سے بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
آلتون نے کہا کہ یہ تنظیم جو ماضی میں بوسنیا ہرزیگوینا، روانڈا، شام اور کوسوو میں ہونے والے انسانی المیے کو روکنے میں بے بس تھی، اب یوکرین کے خلاف روس کے جاری حملوں کے دوران مایوسی کی تازہ مثال بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ، اپنے موجودہ ڈھانچے کے ساتھمسائل کو حل کرنے کی بجائَ مسائل کا باعث بن رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ متحارب فریقوں میں سے کسی ایک کی مستقل رکنیت یا اقوام متحدہ کے بحران کے فریقوں میں سے ایک جب چاہے مسئلے کے حل میں رکاٹ بن سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کو زیادہ مؤثر طریقے سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک نئے اقوام متحدہ کو ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترک صدر ایردوان کئی بار اس بات کا برملا اظہار کرچکے ہیں کہ صرف پانچ ممالک کے لیے ایسے معاملات پر فیصلہ کرنا نہ تو اخلاقی ہے اور نہ ہی منصفانہ ہے اور اس سے پوری دنیا منفی طور پر متاثر ہوتی ہے۔صدر واضح طور پر کہتے ہیں ” دنیا پانچ سے عظیم تر ہے ”
دنیا کو زیادہ جامع اور منصفانہ بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی امن، فلاح و بہبود اور انصاف کے نظریات پر مبنی ” ایک منصفانہ دنیا ممکن ہے” کی اپیل کرتے ہوئے اقوام ِ متحدہ کی تشکیل نو کی ضرورت پر زور دیا ہے۔