مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے والے سیاستدانوں نے حکومت میں آتے ہی ملک کے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے
آئے روز مہنگائی کی نوید سنادی جاتی ہے۔ بجلی کی مد میں باالخصوص کراچی والوں کے ساتھ مسلسل زیادتی کی
جارہی ہے۔
پاکستان کے دیگر شہروں کے مقابلے میں کراچی میں بجلی زیادہ مہنگی ہے ایک مرتبہ پھر کے الیکٹرک نے اپریل
کے بلوں میں 5 روپے 27 پیسے فی یونٹ اضافہ کرکے عوام پر بم گرادیا ہے۔
ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے نام پر شہریوں پر اضافی بوجھ ڈالے جارہے ہیں۔ بجلی آتی نہیں لیکن بل کم ہونے
کے بجائے بڑھتا ہی جارہاہے۔
اپریل کی مد میں بڑھائے گئے پیسے جولائی کے مہینہ میں شہریوں سے وصول کر لیے جائیں گے۔ کے الیکٹرک
بجلی مہنگی کرنے سے باز نہیں آرہا اس نے مئی کے لیے بھی 11 روپے 33 پیسے فی یونٹ اضافہ کرنے کی
درخواست دے رکھی ہے۔
شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ خدارا ہم پر رہم کیا جائے آمدن کے ذرائع محدود ہوتے جارہے ہیں
ایسے میں کھانا دوبھر ہوچکا ہے بل کہاں سے بھریں گے؟