ترکی صدارتی دفتر محکمہ مواصلات کے سربراہ فخر الدین آلتن نے کہا ہے کہ "صدر رجب طیب ایردوان کے، فن لینڈ کے صدر ساولی نینستا ، سویڈن کی وزیر اعظم ماگڈیلینا اینڈرسن اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینز اسٹالٹن برگ کے ساتھ، سربراہی اجلاس میں دہشت گردی کے بارے میں ترکی کے خدشات سے متعلق ٹھوس، مخصوص اور اہم نتائج حاصل کئے گئے ہیں۔
فخر الدین آلتن نے سوشل میڈیا پیج سے جاری کردہ بیان میں اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں 28 تا 29 جون کو منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کا جائزہ لیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ سربراہی اجلاس میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم پی کے کے اور اس کی شاخوں کے خلاف باہمی تعاون کی منظوری دی گئی ہے۔ صدر ایردوان نے، نینیستا، اینڈرسن اور اسٹالٹن برگ کے ساتھ اجلاس میں، دہشت گردی سے متعلق ہمارے اندیشوں کے بارے میں ٹھوس اور اہم نتائج حاصل کئے ہیں۔ تمام فریقین نے دہشت گرد تنظیم PKK اور اس کی شاخوں کے خلاف مکمل تعاون کی منظوری دی ہے”۔
آلتن نے کہا ہے کہ سویڈن اور فن لینڈ نے دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف ترکی کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کروائی اور PYD/YPG اور فیتو کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک نے ہماری دفاعی صنعت کو محدود کرنے یا اس پر پابندیاں لگانے سے باز رہنے اور اس شعبے میں باہمی تعاون میں اضافہ کرنے کی بھی رضا مندی دے دی ہے۔
فخر الدین آلتن نے کہا ہے کہ "ہم نے سویڈن اور فن لینڈ کی پیسکو PESCO میں شرکت کے ساتھ وسیع پیمانے کے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ ہم دو طرفہ شکل میں اپنے ممالک کے شعبہ ہائے انصاف، خفیہ خبر رسانی اور سکیورٹی بیوروکریسی کی شرکت سے ایک دائمی مشترکہ میکانزم قائم کریں گے جو ان اقدامات کے اطلاق اور تصدیق کے امور سے دلچسپی لے گا۔
طے شدہ سہ فریقی سمجھوتے کے اطلاق کے لئے ہم سویڈن اور فن لینڈ کے حکام کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ہمارے خدشات پر توجہ دینے کے لئے ان ممالک کا اختیار کردہ تعمیری روّیہ ہمارے لئے اطمینان بخش ہے۔ ہم، دہشت گردی کے معاملے میں نیٹو کے اندر مزید اتحاد کے لئے کام کریں گے۔ ہم نہ تو اتحاد کے اندر رخنوں کا سبب بنیں گے اور نہ ہی اپنی قومی سلامتی کی طرف سے کوئی ڈھیل دیں گے۔ ہم نے ہمیشہ زیادہ مضبوط نیٹو کی حمایت کی ہے اور کرنا جاری رکھیں گے”۔