دنیا کے ارب پتی تاجروں اور سرمایہ داروں کی زمین پر جنت “بنانا آئی لینڈ” لاگوس کا کہا جاتا ہے۔
نائجیریا کے سب سے بڑے شہر لاگوس میں مصنوعی طریقے سے بنایا گیا “بنانا آئی لینڈ” دنیا بھر کے
آمرا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
مٹی سے بنائے گئے اس آئی لینڈ پر تفریح کے مقامات، تجارتی مراکز اور جدید طرز پر رہائش کے
لیے گھر بنائے گئے ہیں۔
اس آئی لینڈ پر امریکا، برطانیہ، لبنان، عرب ممالک اور دیگر ملکوں کے امرین ترین افراد کے ساتھ نائجیریا کے آمرا
رہائش پزیر ہیں۔ ویسے تو بنانا ریپبلک کا نام سیاست میں کمزور اور غیر مستحکم حکومتوں کے لیے استعمال کیا جاتا
ہے لیکن عرب دنیا کے چھوٹے سے مگر امیر ترین ملک قطر نے بھی “بنانا آئی لینڈ” بنا رکھا ہے۔
دنیا کی سوا سات ارب کی آبادی میں بیشتر کو دو وقت کی روٹی بھی ٹھیک طریقے سے میسر نہیں اور دوسری جانب
ایسے آمرا ہیں جو ایک نہیں بلکہ کئی ملکوں میں بزنس اور رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ دولت کی تقسیم بہتر نہ ہونے
کی وجہ سے دنیا بھر میں غربت کے بادل گہرے ہوتے جارہے ہیں۔
پاکستان میں بھی صورت حال خراب سے مزید خرابی کی طرح تیزی سے سفر کر رہی ہے لیکن بدقسمتی سے ناعاقبت
اندیش حکمرانوں کی حوس اور دولت پرستی کی وجہ سے پاکستان “بنانا ریپبلک” بنتا جارہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جن ملکوں کی سیاسی قیادت کو ملک و قوم کا خیال ہوتا ہے وہ بنانا آئی لینڈ بھی بنالیتے ہیں اور
جن حکمرانوں کو صرف اپنی دولت بنانے کی فکر ہوتی ہے وہ اچھے بھلے ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیتے ہیں