سوشل میڈیا پر “میں بھی عمران ریاض ہوں” کا ٹرینڈ کیوں چل رہا ہے۔ صرف میں بھی عمران ریاض ہوں ہی
نہیں بلکہ “عمران ریاض کو رہا کرو”، وی اسٹینڈ ودھ عمران ریاض، پاکستان انڈر فاشیزم اور پاکستان زندہ باد
کے ٹرینڈ ٹوئیٹر پر چلائے جارہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر عمران ریاض کی حمایت میں کیوں لوگ متحرک ہوئے ہیں۔ یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کے لیے
تھوڑا سا عمران ریاض اور پاکستانی صحافت سے متعلق جاننا بہت ضروری ہے۔ عمران ریاض کئی نیوز چینلز پر
حالات حاضرہ کا شو کرتے رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یوٹیوب پر بھی اپنے پروگرام کرنے شروع کر دیے۔
عمران ریاض اپنے بلاگز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی حمایت میں کرنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں جاپہنچی۔ اب عمران مہینے میں ٹی وی چینلز سے زیادہ رقم وہ بھی ڈالرز میں کمانے لگے ۔ ایک جماعت کی حمایت پر انہیں ٹی وی چینل سے بھی ہٹا دیا گیا لیکن ان کی مقبولیت میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتے جلا گیا۔
اب عمران ریاض کے وی لاگ میں آرمی کے خلاف بھی شدت آتی گئی۔ پھر انہوں نے سیکٹر کمانڈر برگیڈئیر راشد اور دیگر کے نام بھی کھلم کھلا لینے شروع کر دیے۔ بار بار کہا گیا کہ عمران ریاض ریڈ لائن کراس کر چکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ شب انہیں اسلام آباد میں انٹر ہونے سے پہلے گرفتار کر لیا گیا۔
عمران ریاض کو اپنی گرفتاری کا خدشہ تھا اسی لیے انہوں نے بھی انتظامات پورے کر رکھے تھے۔ ویڈیو بیان پہلے ہی ریکارڈ کر کے رکھ لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ گرفتاری کے چند گھنٹوں بعد ان کا دھمکی آمیز بیان اپ لوڈ کر دیا گیا۔
بات یہ ہے کہ اگر گرفتار کرنا بھی تھا تو بہتر طریقے سے حراست میں لے لیا جاتا اور پھر جس طرح زنجیروں میں انہیں جکڑا گیا ایسا تو کسی قاتل کو بھی نہیں باندھا جاتا جیسا کہ عمران ریاض کے ساتھ کیا گیا۔ یہ سب چیزیں ہیں جو لوگوں کو باغی بنانے پر مجبور کر رہی ہیں۔
اسی لیے جو ٹرینڈ سوشل میڈیا پر چل رہا ہے کہ “میں بھی عمران ریاض ہوں” اس کی تعداد میں ایسے ہی اوچھے ہتھکنڈوں کی وجہ سے اضافہ ہورہا ہے۔ ایجنسیوں کو بھی سوچنا ہو گا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ کیوں اداروں کے خلاف ہو رہے ہیں؟
پھر یہ نہ کہا جائے یہ لوگ بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ اتنا بدنام تو بھارت نے نہیں کیا جتنا بدنام ہمارے اپنے لوگ کر رہے ہیں۔ سوال پھر آخری میں چھوڑے جارہے ہیں کہ انہیں مجبور آخر کس نے کیا ہے؟ اپنے اپنے گریبان میں آپ کو بھی جھانکنا ہوگا۔