ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

منکی پاکس دنیا کے 58 ممالک تک پھیل چکا ہے، ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ مئی کے آغاز میں یورپ سے شروع ہونے والی بیماری منکی پاکس گزشتہ دو ماہ کے دوران دنیا کے 58 ممالک تک پھیل چکی اور اب تک اس کے 6 ہزارمصدقہ کیسز رپورٹ سامنے آ چکے۔

ابتدائی طور پر 1970 کے بعد افریقہ کے مغربی حصے میں بندروں میں پائی جانی والی بیماری رواں برس مئی میں پہلی بار افریقہ سے باہر یعنی یورپ میں رپورٹ ہوئی تھی۔

مئی میں منکی پاکس کے کچھ کیسز انگلینڈ اور بعد ازاں اسپین اور اٹلی میں رپورٹ ہوئے، جس کے بعد یہ بیماری جرمنی، فرانس اور سوئٹزرلینڈ سمیت متعدد یورپی ممالک تک پھیلی، جس کے بعد وہاں سے یہ بیماری امریکا اور مشرق وسطی ممالک تک بھی جا پہنچی۔

اب عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ 6 جولائی تک دنیا کے 58 ممالک میں اس کے 6 ہزار کیسز رپورٹ ہوچکے تھے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادہانوم گیبریسیس نے ایک آن لائن کانفرنس میں تصدیق کی کہ منکی پاکس کے کیسز تیزی سے سامنے آ رہے ہیں اور یہ کہ اب تک دنیا کی بہت آبادی ٹیسٹس سے محروم ہے۔

انہوں نے منکی پاکس کے ٹیسٹس کی سست رفتاری پر خدشات ظاہر کیے اور کہا کہ عالمی ادارہ صحت جولائی کے وسط تک منکی پاکس کے حوالے سے صحت کی ہنگامی صورتحال کا اعلان کرے گا۔

ڈبلیو ایچ او نے اس سے قبل جون کے اختتام پر کہا تھا کہ منکی پاکس کی وبا سے فی الحال عالمی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال کا خطرہ نہیں۔

مذکورہ بیماری سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مرض کورونا یا اس طرح کی دیگر وباؤں کی طرح تیزی سے نہیں پھیلتا، منکی پاکس صرف قریبی تعلقات اور خصوصی طور پر جسمانی تعلقات سے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق منکی پاکس عام طور پر صرف افریقی خطے میں پایا جاتا ہے اور کئی دہائیوں سے مذکورہ مرض کے کیسز کسی دوسرے خطے میں سامنے نہیں آئے تھے۔

چیچک اور جسم پر شدید خارش کے دانوں کی بیماری سے ملتی جلتی اس بیماری کی دو قسمیں ہیں، ایک قسم مغربی افریقی کلیڈ ہے اور دوسری قسم کانگو بیسن (وسطی افریقی) کلیڈ ہے، مغربی افریقی کلیڈ سے متاثرہ افراد میں موت کا تناسب تقریباً ایک فیصد ہے جبکہ کانگو بیسن کلیڈ سے متاثر ہونے والے مریضوں میں ہلاکتوں کا تناسب 10 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ منکی پاکس ایک بہت کم پایا جانے والا وبائی وائرس ہے، یہ انفیکشن انسانوں میں پائے جانےوالے چیچک کے وائرس سے ملتا ہے، اس وبا کی علامات میں بخار ہونا، سر میں درد ہونا اور جلد پر خارش ہونا شامل ہیں۔

منبع: ڈان نیوز

The post منکی پاکس دنیا کے 58 ممالک تک پھیل چکا ہے، ڈبلیو ایچ او appeared first on شفقنا اردو نیوز.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں