اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ملک میں اس وقت 30سے 40فیصد تک مہنگائی کی شرح بڑی ہے ۔ اگلے چند ماہ میں یہ شرح 50فیصد تک جاسکتی ہے۔
شوکت ترین نے کہاکہ موجودہ حکومت نے سازش کرکے اقتدار حاصل کیا جس کامقصد اپنے کرپشن چھپانا اور نیب قوانین میں ترامیم کرنا تھا سابقہ ادوار میں بجلی کی کارخانوں کی مد میں ہمیں 850ارب روپے ادا کرنے پڑتے تھے ۔ہمیں نالائقوں کا ٹولہ کہتے تھے لیکن یہ نالائقوں کی یونیورسٹی کے چانسلر ہیں۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے دباو¿ پر 32لارج مینوفیکچرنگ صنعتوں پر سپر ٹیکس کا نفاذ کیا جس سے 13فیصد پیداوار کم ہوئی ہے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی نفاذ کی مدمیں 80ارب روپے اکٹھے کرنا جس سے عوام کی زندگی مزید اجیر ن ہوگی۔
شوکت ترین نے کہا کہ ہمارے دور میں زراعت پر فوکس تھا جس کی بہترین رزلٹ برآمد ہورہے تھے اور زراعت میں جی ڈی پی کی شرح 5فیصد تک تھی۔ گندم ، مکئی کے بعد اب پیاز بھمپر پیدوار ہوئی ہے ،لیکن اس کے باوجود حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ پیاز اسوقت 80روپے کلو کے حساب سے فروخت ہورہے ہیںاسی طرح ٹماٹر 120روپے، گرمیوں میں انڈے کون کھاتا ہے ،لیکن اس کے باوجود انڈوں کے ریٹ کم نہیں ہورہے ۔