سویڈن کی سپریم کورٹ نے جس نے دہشت گرد تنظیم (FETO) کے رکن یلماز ایتان کی ترکی حوالگی کو روک دیا ہے تنظیم کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے ایک تھا، جو افغانستان کا نام نہاد امام تھا۔
اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں، جہاں نیٹو کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا تھا میں سویڈن ا ور فن لینڈ کے ساتھ نیٹو کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ترکی کے ساتھ تعاون کرنے کا عہد کرتے ہوئے ایک ٹرپل میمورنڈم پر دستخط کیے تھے۔
سویڈش پریس کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس ملک کی سپریم کورٹ نے دہشت گرد تنظیم فیتو کی رکن کی حوالگی کو روک دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایف ای ٹی او کے جس رکن کی حوالگی روک دی گئی ہے وہ یلماز ایتان ہیں، جو تنظیم کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے ایک ہیں۔
یلماز ایتان جو تنظیم کا نام نہاد افغانستان کا امام ہے اور FETO سے تعلق رکھنے والے اسکولوں کی ذمہ داری لیتا ہے، نے تنظیم کے خلاف کارروائیوں سے بچنے کے لیے سویڈن میں سیاسی پناہ کی درخواست کی ٹھی ، اور اس کی درخواست منظور ہونے کے بعدوہ افغانستان سے سویڈن چلا گیا تھا۔
Dagens Juridik اخبار کی خبر میں کہا گیا ہے کہ 48 سالہ شخص کی حوالگی جسے 2018 میں سویڈن میں رہائشی اجازت نامہ دیا گیا تھا اور جس کی حوالگی کی درخواست ترکی نے اس بنیاد پر کی تھی کہ وہ FETO کے سرغنہوں میں سے ایک تھا۔ کو سویڈن کی سپریم کورٹ نے روک دیا ہے۔