ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

انتخابات کا التوا: جماعت اسلامی کا الیکشن کمیشن کے باہر دھرنے کا اعلان

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن وفاقی وصوبائی حکومتوںکی مجرمانہ غفلت و لاپرواہی ، واٹر بورڈ کی نااہلی کے باعث شہر میں پیداہونیوالے پانی کے بحران کیخلاف واٹر بورڈ ہیڈآفس شاہراہ فیصل پر دھرنے سے خطاب کررہے ہیں

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کو مؤخر کرنے کے حوالے سے ادارہ نور حق میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی اس عمل کی مذمت کرتی ہے اور اسے جمہوریت کے خلاف، انتخابی عمل کے خلاف ایک سازش بھی سمجھتی ہے اور الیکشن کمیشن، سندھ حکومت، ایم کیو ایم، جی ڈی اے ان تام لوگوں کی ملی بھگت سمجھتی ہے کہ انہوں نے مل کر الیکشن سے فرار کا راستہ اختیار کیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کو میڈیا کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی مسلسل متوجہ کررہے تھے  اور مختلف امور پر ہم نے خطوط بھی لکھے کہ یہاں پر انتخابات کے ضوابط کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ یہاں سیاسی ایڈمنسٹریٹر کا تقرر ہے،  اسے نہیں ہٹایا جا رہا۔ یہاں  جو نام نہاد ترقیاتی کام، جو گزشتہ 14 برس میں نہیں کرائے گئے، وہ انتخاب کے موقع پر جھنڈے لگا کر کیے جا رہے ہیں۔ یہاں سندھ کا الیکشن کمیشن پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کا ایکسٹینشن ہے۔ اسی کے ایک حصے کے طور پر کام کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آر اوز کا تقرر ہو یا پورے عملے کا تقرر،سب پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی مرضی سے ہو رہا ہے، لیکن ان تمام معاملات پر الیکشن کمیشن نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور پوری طرح سے صوبائی حکومت کی پشت پناہی کی گئی۔ بجائے اس کے کہ الیکشن کمیشن ان تمام معاملات کی نگرانی کرتا، سیاسی ایڈمنسٹریٹر کو برطرف کیا جاتا، انہوں نے ایم کیو ایم کے ایک ایسے مطالبے پر، جسے سندھ ہائی کورٹ نے مسترد کردیا۔ مشترکہ طور پر یہ تمام پارٹیاں الیکشن کی مخالفت میں عدالت میں گئی تھیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ انہیں مسئلہ کیا ہے۔ سندھ حکومت، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، ن لیگ، جی ڈی اے یہ سب مل کر ہائی کورٹ میں گئے اور مطالبہ کیا کہ الیکشن کو ملتوی کیا جائے، لیکن سندھ ہائی کورٹ نے ان کی اس پٹیشن کو مسترد کردیا تھا، اور کہا تھا کہ ہم یہ انتخابات مؤخر نہیں کر سکتے۔ یہ کام حکومت کا ہے، اگر انہیں مسئلہ ہے کہ اختیارات کے حوالے سے قانون سازی نہ ہوئی تو یہ حکومت اور جماعتوں کا کام ہے کہ وہ اپنا کام مکمل کریں اور اسمبلی اپنا پراسس مکمل کرے۔

انہوں نے کہا کہ بجاے اس کے کہ اسمبلی اپنا پراسس مکمل کرتی، انہوں نے خوفزدہ ہوکر ڈھائی برس کے تعطل کے بعدالیکشن کو مؤخر کردیا جب کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان کے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں اور 22 جولائی کو کراچی کے حقوق کا مارچ اب الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر پر دھرنے کی صورت میں تبدیل کردیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 22 جولائی کو الیکشن کمیشن کے صوبائی دفتر کے باہر دھرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جعلی ووٹر لسٹوں کی صورت میں موجود دھاندلی کے خلاف بھرپور احتجاج ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے مزید کہا کہ ہم اس دھاندلی پر، جو جعلی قسم کے آر اوز پر مشتمل ہے، اس دھاندلی پر جو ایم کیو ایم کے کہنے پر ملی بھگت کے ذریعے جمہوریت کے خلاف سازش کی گئی ہے، ہم اسے قبول نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ میں جماعت اسلامی کے تمام کارکنوں اور ہمدردوں، خصوصاً نوجوانوں سےجو بڑے پیمانے پر جماعت اسلامی سے وابستہ ہو رہے ہیں، سے کہتا ہوں کہ ہمارے احتجاج کا حصہ بنیں اور اہل کراچی سے اپیل کرتا ہوں کہ احتجاج کی پشت پر آکر کھڑے ہوں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ انتخابات کے مخالفین اگر الیکشن سے فرار ہونا چاہتے ہیں، تو ہم انہیں فرار نہیں ہونے دیں گے۔  یہ جو بھی تاریخ دیں گے، ہم اس تاریخ پر ترازو پر ٹھپے لگائیں گے اور انہیں شکست سے دوچار کریں گے۔ تاہم فی الحال ہمارا مطالبہ ہے کہ 24 جولائی کو انتخابات ہونے چاہییں۔ مخالفین کو کس بات کو خوف ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایم کیو ایم کو کس بات کا خوف ہے، پیپلز پارٹی کو کس بات کا خوف ہے۔ یہ لوگ حالات اور جماعت اسلامی کی مقبولیت دیکھ رہے ہیں۔ یہ لوگوں کا ردعمل دیکھ رہے ہیں، کیونکہ لوگ اب اس غلاظت اور گندگی سے نجات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی التوا کے خلاف بھرپور احتجاج اور دھرنا ہوگا، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ انتخابی تحریک کو ماند نہ پڑنے دیں۔ شہریوں کو انتخابات سے دور کرکے گھروں پر بٹھانے کی سازش کی جا رہی ہے۔  انہوں نے کہا کہ انتخابات کے خلاف سازش کے باوجود ہماری مہم میں تیزی آئے گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ ہماری انتخابی مہم نہیں ہے، یہ کراچی کے حقوق کی تحریک ہے اور یہ تحریک جاری رہے گی کیونکہ انتخابات بھی اس تحریک کا ایک سنگ میل ہے، منزل نہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں