وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویز الہٰی کی درخواست پر سماعت مکمل ہو گئی اور فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ کچھ دیر کے لیے اٹھیں گے، شام 5:45 پر فیصلہ سنائیں گے۔
چیف جسٹس نے وکیل علی ظفر سے کہا کہ قانونی سوالات پر معاونت کریں یا پھر ہم اس بینچ سے الگ ہو جائیں، جو دوست مجھے جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ اپنے کام کو عبادت کا درجہ دیتا ہوں۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ درخواست کی سماعت کر رہا ہے، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی بینچ میں شامل ہیں۔
میرے مؤکل کی ہدایت ہے کہ عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بننا، عرفان قادر
ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کے وکیل عرفان قادر نے کہا کہ میرے مؤکل کی ہدایت ہے کہ عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بننا، فل کورٹ کی استدعا مسترد کرنے کے خلاف پاکستان میں مثالی بائیکاٹ ہوا، فل کورٹ سے متعلق فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست دائر کریں گے۔
پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو کارروائی کے بائیکاٹ سے آگاہ کر دیا۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے فاروق نائیک سے کہا کہ آپ تو کیس کے فریق ہی نہیں، ہمارے سامنے فل کورٹ بنانے کا کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا گیا، عدالت میں صرف پارٹی سربراہ کی ہدایات پر عمل کرنے سے متعلق دلائل دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ موجودہ کیس میں فل کورٹ بنانے کی ضرورت نہیں، اصل سوال تھا کہ ارکان کو ہدایات کون دے سکتا ہے، آئین پڑھنے سے واضح ہے کہ ہدایات پارلیمانی پارٹی نے دینی ہیں، اس سوال کے جواب کے لیے کسی مزید قانونی دلیل کی ضرورت نہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اس کیس کو جلد مکمل کرنے کو ترجیح دیں گے، فل کورٹ بنانا کیس کو غیرضروری التواء کا شکار کرنے کے مترادف ہے، فل کورٹ بنتا تو معاملہ ستمبر تک چلا جاتا کیوں کہ عدالتی تعطیلات چل رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے میں عدالتی فیصلوں سے واضح ہے کہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرنا ہوتا ہے، جسٹس عظمت سعید نے فیصلے میں پارٹی سربراہ کی ہدایات پر عمل کرنے کا کہا، فریقین کے وکلاء کو بتایا تھا کہ آئین گورننس میں رکاوٹ کی اجازت نہیں دیتا۔