امریکہ کی ایوان نمایندگان کی اسپیکرنینسی پیلوسی چین کی دھمکیوں کے باوجود گزشتہ شب تائیوان کے دارالحکومت تائپے پہنچ گئی ہیں۔
وہ سن 1997 کے بعد تائیوان کا دورہ کرنے والی امریکہ کی اعلیٰ منتخب عہدہ داربن گئی ہیں۔
چین نے بارباردھمکی دی تھی کہ اگرپیلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا تو وہ ایسے خاموش تماشائی نہیں بنا رہے گا ۔اس نے فوجی کارروائی تک دھمکی دی تھی۔
ان دھمکیوں کے ردعمل میں پیرکووائٹ ہاؤس نے جوابی وارکیا اور کہا کہ امریکہ ان دھمکیوں سے خوف زدہ نہیں ہوگا۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے ابتدائی طور پر پیلوسی کے دورے کی مخالفت کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس سے بیجنگ کے ساتھ پہلے ہی موجود کشیدگی میں غیر ضروری اضافہ ہوگا۔
لیکن امریکہ میں اختیارات کی علیحدگی کے بعد نینسی پیلوسی اپنے سفری فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔
وائٹ ہاؤس اس بیان کے ذریعے چین کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی تھی۔
تائیوان پہنچنے کے فوری بعد پیلوسی نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا دورہ واشنگٹن کےتائیوان کی متحرک جمہوریت کی حمایت کے غیرمتزلزل عزم کے احترام کا غمازہے۔
انھوں نےاس بات کا اعادہ کیا کہ ان کا یہ دورہ کسی بھی طرح امریکہ کی دیرینہ پالیسی کے منافی نہیں۔اس کی رہ نمائی 1979 کے تائیوان تعلقات ایکٹ کے تحت کی گئی ہے‘‘۔
انھوں نے مزیدکہا:’’امریکا ’اسٹیٹس کو‘تبدیل کرنے کی یک طرفہ کوششوں کی مخالفت جاری رکھے ہوئے ہے۔تائیوان کے دوکروڑ 30 لاکھ عوام کے ساتھ امریکہ کی یک جہتی آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے کیونکہ دنیا کوآمریت اور جمہوریت کے درمیان انتخاب کا سامنا ہے‘‘۔
پینٹاگون اورامریکہ کی دیگرسلامتی ایجنسیوں نے پیلوسی اوران کی ٹیم کو بیرون ملک سفرکرنے والے امریکی حکام کو عام طور پر دی جانے والی مناسب خفیہ اور سلامتی پر مبنی معلومات فراہم کی ہیں۔
امریکی فوج نے پیلوسی کے متوقع دورے سے قبل بحرہند اور بحرالکاہل میں اپنی موجودگی اور افواج کی نقل وحرکت میں بھی اضافہ کیا جس کی تصدیق پہلے سےامریکی حکام نے نہیں کی تھی۔
امریکی بحریہ کا طیارہ بردار بحری جہاز یوایس ایس رونالڈ ریگن اور اس کا اسٹرائیک گروپ گزشتہ پیرکے روز سے بحیرہ فلپائن میں موجودتھے۔
چین کی جانب سے بیان بازی کے باوجود امریکہ نے کہا ہے کہ پیلوسی کے دورے پربیجنگ کی ناراضگی کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
امریکی حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ واشنگٹن کی ‘ایک چین پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔