ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

آرمی چیف کی تعیناتی کے موجودہ قانون میں سقم موجود ہے، اسے ختم ہونا چاہیے: فواد چودھری

تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے موجودہ قانون میں سقم موجود ہے۔ ہر تین سال بعد اس تعیناتی کا مسئلہ پڑ جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بیٹھ کر اس کا فریم ورک اور حل نکالنا چاہیے۔

اردو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے فواد چودھری نے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ ایشو ہے۔ ہمارے تعلقات اتنے زیادہ اچھے اور زیادہ برے بھی نہیں ہیں۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور ہمارے تعلقات کبھی بھی زیادہ خراب نہیں ہوئے، یہ مسلم لیگ ن کی نہج پر نہیں پہنچے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ کی اسٹیبلشمنٹ سے مراد فوج ہے تو میں ایک ایسے حلقے سے آتا ہوں جہاں کا میرا سارا ووٹر فوجی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ فوج کے اندر تحریک انصاف کو ایک بہت بڑی سپورٹ حاصل ہے۔

آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قانون میں سقم موجود ہے، اس کو ختم ہونا چاہیے۔ اس کو سپریم کورٹ نے بھی پوائنٹ آئوٹ کیا ہوا ہے۔ لیکن بات چیت ہو تو یہ بہتر ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہتر تو یہی ہے کہ انتخابات کے بعد جو حکومت آئے وہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کرے۔ لیکن میرے خیال میں سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر جس طرح عدلیہ میں ایک فارمولہ طے کیا گیا ہے، اسی طریقے سے یہ بھی معاملہ ختم ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر تین سال بعد تعیناتی کا ایکسٹینشن کا مسئلہ پڑ جاتا ہے۔ اس لئے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر اس کا ایک فریم ورک بنا کر حل نکالنا چاہیے کیونکہ پاک فوج تو سب کی ہے۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں جو فرض ادا نہیں کر رہیں، یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے پر بات چیت کریں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں