پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے ملتان میں پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی جانب سے اپنی بیٹی مہر بانو قریشی کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-157 کے ضمنی انتخاب میں پارٹی ٹکٹ دینے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
یہ نشست ان کے بیٹے زین قریشی نے خالی کی تھی جنہوں نے پنجاب اسمبلی کے پی پی۔217 سے صوبائی اسمبلی کی نشست سے الیکشن لڑا تھا اور حال ہی میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ(ن) کے امیدوار سلمان نعیم کو شکست دی تھی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے۔157 ملتان، پی پی۔139 شیخوپورہ اور پی پی۔241 بہاولنگر میں ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا ہے جس میں 11 ستمبر کو پولنگ ہوگی جبکہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 5 اگست مقرر کی گئی ہے۔
این اے-157 کے ضمنی انتخاب کے لیے مہر بانو قریشی، سابق وزیراعظم اور سینیٹر یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے سید علی موسیٰ گیلانی، انجینئر وسیم عباس اور سیف الرحمٰن قریشی سمیت 18 سے زائد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔
اس حلقے کو شاہ محمود قریشی کا گڑھ اور آبائی نشست سمجھا جاتا ہے، علی موسیٰ گیلانی نے 2012 کے ضمنی انتخاب میں بھی اس نشست پر کامیابی حاصل کی تھی۔
پارٹی کے مقامی رہنما انجینئر وسیم عباس کی قیادت میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے پارٹی میں خاندانی سیاست کو فروغ دینے پر شاہ محمود قریشی اور ان کے خاندان کے خلاف ملتان میں الیکشن کمیشن آفس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا، کارکنان نعرے لگا رہے تھے اور بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر شاہ محمود قریشی اور ان کے خاندان کے خلاف نعرے درج تھے۔
مظاہرین نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے پی پی-217 ملتان سے اپنے بیٹے زین کو میدان میں اتارا تھا اور اب انہوں نے اپنی بیٹی کو ٹکٹ دیا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا شاہ محمود قریشی کو ضمنی الیکشن لڑنے کے لیے کوئی دوسرا امیدوار نظر نہیں آیا؟۔
پی ٹی آئی کے مقامی رہنما وسیم عباس نے کہا کہ پی ٹی آئی کا آغاز خاندانی سیاست کو چیلنج کرنے کے نعرے کے تحت کیا گیا تھا اور کارکن پارٹی کو روایتی اور خاندانی پارٹی میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان سے درخواست کی ہے کہ انہیں این اے-157 کا ضمنی انتخاب لڑنے کے لیے ٹکٹ دیا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اگر مجھے پارٹی ٹکٹ نہیں ملا تو میں آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑوں گا۔
اپنی امیدواری کے بارے میں مہر بانو قریشی نے ٹوئٹ کیا کہ این اے-157 کے ضمنی انتخاب کے لیے اپنی امیدواری کا اعلان کرنے کے بعد سے ساری جعلی خبریں، جعلی تصاویر اور پوسٹرز اور جھوٹے بیانات مجھ سے منسوب کیے جا رہے ہیں، مجھے تعجب ہے کہ اگر میں ایک مرد ہوتی تو کیا یہ معاملہ مختلف ہوتا، بہرحال سخت محنت اور اپنے آپ کو ثابت کرنے پر میں خوش ہوں۔
اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کیے گئے ایک آڈیو بیان میں انہوں نے دلیل دی کہ پی ٹی آئی اور میرے والد نے عمران خان کے بیانیے کو زندہ رکھنے کے لیے ہماری خاندانی روایات کے خلاف مجھے (ضمنی انتخاب کے لیے) منتخب کیا، میں صرف پاکستان تحریک انصاف کی ووٹر نہیں ہوں بلکہ میں پارٹی سے جڑی ہوئی ہوں اور 2018 سے اس کی سوشل میڈیا ٹیم کے ساتھ کام کر رہی ہوں۔
As a proud @PTIofficial supporter and worker for over a decade, I am honoured to have the opportunity to represent the people of #NA157 by my leader @ImranKhanPTI and to stand for South Punjab.
خان صاحب نے جو امید کا دِیا جلایا ہے ہم اُسے بُجھنے نہین دین گے pic.twitter.com/Ja5xAeBMUf
— Meher Bano Qureshi (@MeherBanoQ) August 4, 2022