ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

خاتون جج کو دھمکی، عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری،31اگست کو ذاتی طور پر طلب

  اسلام آ باد ہائی کورٹ نے بینچ خاتون جج کو دھمکی کے معاملے پر عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کر تے ہوئے کہا ہے کہ  عدالتوں کی اتھارٹی پرسمجھوتہ نہیں ہو سکتا، جلسے میں انتہائی نامناسب ریمارکس دیے گئے، ساری عدلیہ کو بدنام کرنے والے ریمارکس دیے گئے، زیرالتوا کیس میں کوئی ایسے ریمارکس کیسے دے سکتا ہے؟ یہ ماحول پیدا کیا گیا تو کوئی کام ہو ہی نہیں سکے گا، ہرکوئی اٹھ اٹھ کرمارے گا۔

 منگل کو جسٹس محسن اختر کیانی ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ایڈیشنل سیشن جج کیخلاف بیان پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے کیس پر سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ وہ خاتون جج کون سا کیس سن رہی تھیں؟

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب میں کہا کہ وہ عمران خان کی پارٹی کے رہنما کے ریمانڈ کا کیس سن رہی تھیں، بے شک عمران خان بڑی جماعت کے لیڈر ہیں مگر یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ جلسے میں انتہائی نامناسب ریمارکس دیے گئے، ساری عدلیہ کو بدنام کرنے والے ریمارکس دیے گئے، زیرالتوا کیس میں کوئی ایسے ریمارکس کیسے دے سکتا ہے؟ یہ ماحول پیدا کیا گیا تو کوئی کام ہو ہی نہیں سکے گا، ہرکوئی اٹھ اٹھ کرمارے گا۔

عدالت عالیہ نے استفسار کیا کہ کیا جو بھی خلاف فیصلہ دے گا اس کے خلاف تقاریر کی جائیں گی؟ عوام کو کس طرف لے جارہے ہیں کہ وہ اپنا انصاف خودشروع کرے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ پہلے نوٹس دے کر عمران خان کو سنا جائے یا براہ راست شوکاز نوٹس دیں؟، جس پر ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون نے کہا کہ بادی النظرمیں یہ سیدھا شوکاز نوٹس کا کیس بنتا ہے۔ جسٹس گل حسن نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کیا جس خاتون جج کو دھمکی ملی اسے اضافی سیکیورٹی دینے کو تیار ہیں؟جس پر جہانگیر جدون نے کہا کہ حکومت انہیں اضافی سیکیورٹی دینے کیلئے تیار ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ عدالتوں کی اتھارٹی پرسمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ عدالت عالیہ نے عمران خان 31 اگست کو ذاتی طور پر طلب کرلیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں