کراچی:ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک مرتضی سید نے کہا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹ میں 4 ارب 95 کروڑ ڈالر آچکے ہیں۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک مرتضی سید نے روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کی اسلامی مالیاتی مصنوعات پر منعقدہ آن لائن سیمینار سے خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان کے مشکل دن گزر گئے ہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکائونٹ ایک قابل فخر پروگرام ہے۔
مرتضی سید نے کہا کہ اب تک 14 بینک سمندر پار پاکستانیوں کو روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کھولنے کی سہولت دے رہے ہیں۔ اس اکانٹ کے ذریعے گھروں کی خریداری، کار فنانسنگ ،اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور عطیات دیے جاسکتے ہیں۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں جو رقم آئی ہے وہ آئی ایم ایف کے قرض اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے زائد ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکانٹ میں آدھی رقم اسلامی بینکوں میں آئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کی تعداد 4 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور 175 ملکوں سے اکانٹ کھولے گئے ہیں۔
اس اکاؤنٹ میں 4 ارب 95 کروڑ ڈالر آچکے ہیں۔انھوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹ غیر سیاسی ہے۔ چند ماہ قبل حکومت کی تبدیلی ہوئی ہے مگر اس اکائونٹ کے حوالے سے موجودہ حکومت بھی سرگرم ہے۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے نیاپاکستان سرٹیفکیٹ خریدے جاتے ہیں۔ پاکستانی روپے میں سرٹیفکیٹس پر شرح منافع ساڑھے 9سے 11 فیصد تھی جسے بڑھا کر ساڑھے 13 سے 15 فیصد کردیا ہے۔ اس منافع کا انحصار سرمایہ کاری کی مدت پر ہوگا۔