ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

وفاقی وزیر خارجہ نے آڈیولیکس معاملہ حساس قراردے دیا

وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے آڈیو لیکس معاملے کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِاعظم چاہے کوئی بھی ہو اس سے قومی سلامتی کا سوال پیدا ہوا ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہمیں اس کا جواب چاہیے، فی الحال پاکستان کی جانب سے بھارت کیساتھ ہاتھ آگے بڑھانا ممکن نہیں، اگر ہم چاہتے ہیں افغانستان میں خواتین اور دیگر گروپس کو حقوق ملیں تو ہمیں طالبان کے ساتھ رابطے میں رہنا ہو گا۔یہ بات انہوں نے امریکی خبر رساں ادارے کو انٹرویودیتے ہوئے کہی 

وفاقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے آڈیو لیکس معاملے کی انکوائری کا حکم دیا ہے جس کے نتائج کا ہم سب کو انتظار رہے گا۔ اس عمل کی مذمت کرتے ہیں۔ جب وزیرِ اعظم کے دفتر کا معاملہ ہو تو وزیرِاعظم چاہے عمران خان ہوں یا شہباز شریف، اس سے قومی سلامتی کا سوال پیدا ہوا ہے۔

کالعدم تحریکِ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات گزشتہ دورِ حکومت میں شروع ہوئے تھے اور بات سیز فائر تک پہنچ گئی تھی۔ ہمارا شروع سے ہی موقف رہا ہے پارلیمان کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے جس کے بعد پارلیمان کو بریفنگ دی گئی، اب بھی اصرار ہے مذاکراتی عمل پارلیمان کی زیر نگرانی ہی ہونا چاہیے لیکن تاحال کمیٹی نہیں بنی۔ توقع ہے اس کے نتیجے میں امن قائم ہو گا لیکن ماضی میں ایسے مذاکرات کا نتیجہ مثبت نہیں رہا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں