ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

خوراک کا موجودہ بحران 2023 میں عالمی تباہی کی ماہیت اختیار کر سکتا ہے، اقوامِ متحدہ

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو خوراک کا موجودہ بحران 2023 میں عالمی تباہی میں بدل سکتا ہے۔

بہت سے ممالک میں جاری خشک سالی اور تنازعات اور یوکرین روس جنگ کی وجہ سے اناج کی ترسیل میں رکاوٹوں نے خوراک کے بحران کو مزید گہرائی دی ہے اور  لاکھوں انسانوں کو  فاقہ کشی کے خطرے کا سامنا  ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق 45 ممالک میں تقریباً 50 ملین افراد قحط کی دہلیز  پر ہیں۔

جب کہ دنیا بھر میں 800 ملین سے زیادہ لوگ ہر رات بھوکے سوتے ہیں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈنے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو خوراک کے بحران کا سامنا ہے کیونکہ قیمتوں میں بڑے اتار چڑھاؤ سے غذائی عدم تحفظ میں اضافہ  ہوا ہے۔

خوراک کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہ خطہ افریقہ میں لاکھوں جانیں خطرے میں ہیں۔

اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق افریقی براعظم میں ہر 5 میں سے ایک شخص موسمیاتی تبدیلی، تنازعات، کورونا  وبا اور یوکرین ۔روس جنگ جیسی وجوہات کی وجہ سے صحت بخش غذا  سے محروم ہے۔

مشرقی افریقہ میں 81 ملین لوگ خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ہیں تو  16 ملین مشرقی افریقیوں کو کھانا پکانے اور پینے کے لیے استعمال ہونے والے صاف پانی تک رسائی نہیں ہے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں