سال 2021 کے ماہ مئی میں پہلی بار فرانسیسی صدر ماکرون کی طرف سے پیش کردہ یورپی سیاسی سوسائٹی (AST)منصوبے پر پہلا ٹھوس قدم 6 اکتوبر کو پراگ میں منعقدہ اجلا س میں اٹھایا گیا۔ خاصکر بریگزٹ ، عام وبا اور یوکیرین جنگ کے بعد یورپ کےمستقبل کے کسی سانچے میں ڈھلنے کی بحث نے بھی زور پکڑ لیا تھا۔ جرمنی میں مرکل کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ یورپ میں لیڈر کا مسئلہ پیدا ہونے کے تجزیے زور پکڑنے لگے ہیں۔ اس تناظر میں فرانس نے جرمنی میں خالی ہونے والی سیٹ کو خاصکر سیاسی طور پُر کرنے کو ہدف بنانے والی ایک پالیسی کو اپنا یا۔ در اصل فرانس کی وسیع پیمانے کی سفارتی کوششوں کے ذریعے عملی حیثیت حاصل کرنے والے اس نئے میکانزم نے خطہ یورپ کے عالمی پالیسیوں میں اپنے اثرِ رسوخ کو بڑھانے کے ہدف کو منظر عام پر لایا ہے۔ صدر فرانس ماکرون کے لیے بھی یہ معاملہ قدرے اہم دکھائی دے رہا ہے۔ اس بنا پر اولین طور پر اے ایس ٹی کو ماکرون کی یورپی سیاست اور عالمی ڈپلومیسی میں لیڈر شپ پوزیشن کو تقویت دینے کی کوششوں کے طور پر تصور کیا گیا۔ اس پہلو کی بدولت حالیہ برسوں میں عالمی سفارتکاری میں اثر رسوخ میں کمی آنے والے فرانس اور اس معاملے میں نکتہ چینیوں کا نشانہ بننے والے ماکرو ن کے اعتبار سے اے ایس ٹی کا ایک خاص مفہوم اور اہمیت ہے۔
سیتا سیکیورٹی تحقیقات ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل طاش کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔
اے ایس ٹی کا پہلی بار پراگ میں منعقدہ سربراہی اجلاس یورپ کے مستقبل کوکس سانچے میں ڈھالے جانے کی خواہش کے بارے میں بعض اشارے دیتا ہے۔ پہلا پیش پیش معاملہ فطری طور پر روس کی یوکیرین میں جنگ تھا۔ گو کہ یورپی سیاسی سوسائٹی منصوبہ روس یا پھر کسی دوسرے ملک یا کسی نمایاں خطرے کے برخلاف سخت گیر پوزیشن کو سامنے نہیں لاتا تو بھی وقت کے لحاظ سے یورپ کے روس کی یوکیرین میں مداخلت کا موجب بننے والے کثیر الجہتی بحرانوں کے بر خلاف کس طرح نبرد ِ آزما ہونے کا مظاہرہ کرنے کے اعتبار سے در اصل کافی نازک معاملہ ہے۔ کیونکہ یوکیرین جنگ نے کئی لحاظ سے یورپ کو متعدد چیلنجوں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
ان میں سے نمایاں ترین توانائی کا بحران ہے۔ یورپ عمومی طور پر توانائی کے میدان میں روس پر انحصار کرتا ہے۔ خطہ یورپ کی سالانہ قدرتی گیس کی کھپت 500 بلین کیوبک میٹر کے قریب ہے، جس کا تقریباً 50 فیصد روس سے حاصل کیا جاتا ہے۔ تا ہم جنگ کے باعث یورپ اور روس کے مابین جاری تنازعات، نارڈ اسٹریم ون کی پائپ لائن گنجائش میں گراوٹ لایا جانا ، نارتھ اسٹریم ٹو منصوبے کو امریکہ کے اعتراض کے باعث عملی جامہ نہ پہنایا جانا اور روس پر عائد بھاری اقتصادی و سیاسی پابندیاں قدرتی گیس کے نرخوں میں اضافے کا موجب بنی ہیں۔ یہ صورتحال یورپ کو گیس کے متبادل ذرائعوں کی جانب مائل کر رہی ہے تو بھی خطہ یورپ سال 2023 میں اہم سطح پر بجلی کے بحران سے دو چار ہو گا۔ قدرتی گیس کا حصول، اس کی ذخیرہ اندوز ی اور بڑھنے والی مالیت کے تناظر میں ظہور پذیر ہونے والے بہت سارے مسائل یورپ کو توانائی کے معاملے میں وسیع پیمانے کے اقتصادی و سیاسی بحران کے دہانے تک لے آئے ہیں۔ اس بنا پر بر اعظم یورپ کو توانائی بحران کے برخلاف کوئی حل چارہ تلاش کرنا لازمی ہے۔
دوسری جانب یوکرین کی جنگ نے یورپی سلامتی کی معماری کے لیے بھی ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ یوکرین پر حملہ کرنے کی روس کی کوشش کو یورپ نے سرد جنگ کے بعد کے جمود کو خراب کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا ہے۔ نیٹو کے اندر ہونےو الی پالیسی تبدیلیاں کو یورپ کی روس کے برخلاف سلامتی کے حصول کے ایک حربے کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے تو بھی جنگ کا موجب بننے والی غیر یقینی کی صورتحال اور خطرات یورپی سلامتی کے لیے خدشات کو مزید طول دے رہے ہیں۔ خاص طور پر در حقیقت برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی کے ساتھ ہی اپنے لیے ایک نئی سمت متعین کر لی ہے، تو اب اس کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ یورپ کے سیکورٹی ڈھانچے کو از سر نو وضع کرے ۔ اس وجہ سے اے ٹی ایس کو یورپ کو زیادہ مضبوطی سے اتفاق کے ساتھ ایک قدم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اے ٹی ایس نے یورپ کے سکیورٹی کے فنِ تعمیر کے لیے ایک نیا فن تعمیر متعارف کرایا ہے۔ اے ٹی ایس کو یورپی یونین کے متبادل کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ۔ جو کچھ کیا گیا وہ صرف بحران کے دور میں باہمی اتحاد کو تقویت دینے کے لیے ہے ۔
AST کو میکرون کے نئے بڑے پروجیکٹ کے طور پر تنقید کا نشانہ بنانے والے حلقے بھی موجود ہیں۔ یہ تنقید بعض مقامات پر جائز دکھتی ہیں ۔ تاہم، موجودہ ضروریات یورپی یونین کو اپنی سرحدوں سے باہر کسی حکمت عملی کو وضع کرنے کو ضروری بنا رہی ہیں۔ خاصکر یورپی یونین کے غیر رکن لیکن موجودہ حالات میں پیش پیش اداکاروں (ترکیہ جیسے) کی اے ٹی ایس میں شمولیت قدرے اہم ہے۔ یہ شراکت یورپی یونین کو روس کی جانب سے موجب ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کہیں زیادہ طاقتور دکھا سکتی ہے۔
اے ایس ٹی حکمت عملی نظریاتی تبادلے اور آئندہ کے ایام کی پالیسیوں کا تعین کرنے والے معاملات میں براعظم کی سطح پر عملی کاروائیوں کا مظاہرہ کرنے والے ایک پلیٹ فارم بننے کا امکان فراہم کر رہی ہے۔ تا ہم یہ کافی مشکل ہے کہ مذکورہ پلیٹ فارم بر اعظم یورپ کو در پیش مسائل کے بارے میں قلیل مدت کے اندر حل چارہ تلاش کر سکے گا۔