اسلام آباد: اداروں کے خلاف متنازع ٹوئٹس کرنے پر گرفتار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعظم خان سواتی کو اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔
گزشتہ روز اسلام آباد کی اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت نے سینیٹر اعظم خان سواتی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کی تھی۔ اور انہیں 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔
اعظم سواتی کو اداروں کے خلاف متنازع ٹوئٹس کے الزام میں اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔
اسلام آباد کی عدالت نے اعظم سواتی کی ضمانت کے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ بغاوت پراکسانےکی دفعات کے تحت کیس میں مزید انکوائری کی ضرورت ہے، ٹرائل میں شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد ثابت ہوگا کہ پٹیشنر کا ٹوئٹ کرنے کا مقصد اور ارادہ کیا تھا۔
17 اکتوبر کو جسمانی ریمانڈ میں مزید ایک روز کی توسیع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اعظم خان سواتی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تھا جس کے فوری بعد ان کے وکلا کی جانب سے درخواست ضمانت دائر کی گئی تھی جس پر سماعت کے دوران کل ان کے وکیل اور آج پراسیکیوٹر نے دلائل دیے تھے۔
درخواست ضمانت پر اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں سماعت ہوئی، اعظم سواتی کی جانب سے وکیل بابر اعوان اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔
واضع رہے کہ اعظم سواتی کو اداروں کے خلاف متنازع ٹوئٹس کے الزام میں اسلام آباد سے گرفتارکیا گیا تھا۔