ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

شام اور لبنان کے صدور کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ

دمشق:سمندر میں توانائی کے ذخائر کی تلاش کے لیے اسرائیل کے ساتھ امریکی سرپرستی میں کیے گئے معاہدے کے بعد اب اعلی سطح کا لبنانی وفد دمشق جائے گا۔

تاکہ لبنان اور شام کے درمیان سمندری حدود کے تعین اور وضاحت کے لیے بات چیت کر سکے۔یہ پیش رفت اسرائیل لبنان معاہدے کے بعد شام کی طرف سے اس معاملے کو اٹھانے کے بعد سامنے آئی ہے۔

شام کے صدر بشارا الاسد اور لبنانی صدر مشیل عون کے درمیان فونک بات چیت ہفتے کے روز ہوئی ہے۔ اسی کی روشنی میں لبنانی صدر نے پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکرالیاس بوصعب کو ایک وفد کے ہمراہ شام جانے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے ایک سرحدی تنازعے کا شام اور لبنان کے درمیان اس وقت اظہار سامنے آیا تھا جب شام نے مشرقی بحیرہ روم میں روسی توانائی کمپنی کو اپنی سمندری حدود میں ایکسپلوریشن کے لیے لائسنس دیا تھا۔

اس سمندری علاقے کے بارے میں لبنان کا دعوی ہے کہ یہ اس کی ملکیت ہے۔شامی وفد میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں لبنان کی قیادت کرنے والی ٹیم کے سبراہ اور ڈپٹی سپیکر کے علاوہ لبنانی وزیر خارجہ اور ٹرانسپورت سے متعلقہ حکام بھی شامل ہوں گے، یہ وفد اگلے ہفتے دمشق پہنچے گا۔

ٹیلی فون پر شامی سدر کے ساتھ بات میں لبنا کے صدر نے کہا ان کا ملک شام کے ساتھ اپنی شمالی سمندری حدود کے معاملے پر بات چیت میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔

اس بات چیت کے بعد ہی لبنانی صدر نے پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر الیاس بوصعب کو شام کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سونپی ہے۔ دوسری جانب شام کے ایف ایم ریڈیو نے بتایا ہے کہ لبنانی قیادت سے اس بارے میں صدر بشارالاسد کی بات چیت کی تصدیق کی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں