تاہم شاہد حامد اس بات اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’عدم اعتماد اسمبلی رولز کا معاملہ ہے جبکہ اعتماد کا ووٹ آئینی مسئلہ ہے۔ دونوں کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔‘
ان سے جب یہ سوال کیا گیا اگر سپیکر اجلاس نہیں بلاتے تو آگے کیا ہو گا، کیا معاملہ عدالت جائے گا؟ تو ان کا کہنا تھا ’میرا نہیں خیال کہ یہ کوئی عدالتی معاملہ ہے کیونکہ اگر جو دن اور وقت گورنر نے وزیراعلٰی کے لیے اعتماد کا ووٹ لینے کا طے کیا ہے اگر اس وقت وہ اعتماد کا ووٹ نہیں لیتے تو وہ خود بخود وزیراعلٰی نہیں رہیں گے۔ کیونکہ یہی تصور ہو گا کہ وزیراعلٰی کے پاس عددی برتری نہیں ہے۔‘
بشکریہ: اردو نیا دور