ڈاکٹر مہمت اُچار کے طبّی مشوروں پر مبنی پروگرام چشمہ شفاء کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔
آج ہم آپ کے ساتھ صحت سے متعلقہ جس موضوع پر بات کریں گے وہ ہے ‘کدو کا مغز اور اس کے فوائد’۔
تو آئیے دیکھتے ہیں کدو کا مغز ہماری صحت پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے ۔
1۔ بیماریوں کے خلاف لڑنے والے اینٹی آکسیڈنٹ سے مالا مال
کدو کا مغز ہمارے جسم کے خلیوں کو بیمار ی سے بچانے والے اور جسم کو التہاب سے محفوظ رکھنے والے متعدد اینٹی آکسیڈنٹوں سے مالا مال غذا ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ کدو کے بیج کی جسم کو التہاب سے بچانے کی خصوصیت جگر، مثانے، انتڑیوں اور جوڑوں کی صحت کے حوالے سے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
2۔ قوت مدافعت کے لئے مفید
کدو کا مغز اپنے اندر شامل وٹامن ای اور زنک کی بدولت قوت مدافعت کو مضبوط بناتا ہے۔ زنک جسم سے التہاب کا خاتمہ کر کے اور الرجی و جراثیم سے بچا کر متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھتا اور اس طرح بیماریوں کے مقابل جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط بناتا ہے۔
3۔ وزن پر قابو
بطور اسنیکس کدو کے مغز کا استعمال وزن گھٹانے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ مغز جسم میں چربی کی مقدار کو کم کرنےا ور پٹھوں کی مقدار میں اضافہ کرنے کے لئے نہایت شاندار غذا ہے۔
کدو کا مغز پیٹ کو بھرا رکھتا ہے، اپنے اندر شامل کیلشئیم ، پروٹین اور پوسے کی وجہ سے نظام ہضم کو بہتر کرتا اور دن بھر میں بار بار کھانا کھانے سے بچا کر وزن گھٹانے میں مدد دیتا ہے۔ کدو کے مغز میں شامل زنک جسم میں چربی کو ختم کرنے اور زیادہ صحت مند شکل میں وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
4۔ قلبی صحت
میگنیزیئم، پوٹاشئیم اور صحت مندانہ روغنی ایسڈوں جیسے اجزاءکے ساتھ کدو کا مغز اور خاص طور پر کدو کے مغز کا تیل قلبی صحت میں بہتری لاتا اور اس کی حفاظت کرتا ہے۔ قلبی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
کدو کے مغز میں شامل روغنی ایسڈ بالغ افراد کے خون میں مفید HDL کولیسٹرول کی سطح بلند کر کے فشارِ خون میں کمی لاتے ہیں۔ علاوہ ازیں کدو کا مغز شریانوں کو کھُلا کرنے اور دل کے زیادہ موئثر شکل میں کام کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
5۔ خون میں شکر کی متوازن مقدار
کدو کے مغز کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ خون میں شکر کی مقدار کو توازن میں رکھتا ہے۔ کدو کے مغز میں شامل پروٹین اور پوسا ذیابیطس کے مریضوں میں خون میں شکر کی مقدار کو قابو میں رکھنے اور خون میں شکر جذب ہونے کی رفتار کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کدو کا مغز میگنیزیئم کے اعتبار سے بھی بہت مفید غذا ہے کیونکہ میگنیزیئم ایسی چیز ہے جسے انسان وزن کم کرنے کے ڈائٹ پروگرام سے کافی شکل میں حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ غذا خون میں شکر کی مقدار کو کم کر کے ذیابیطس کی بیماری کا خطرہ بھی کم کرتی ہے۔
6۔ معیاری نیند
رات کو سونے سے پہلے بطور اسنیک کدو کا مغز کھانا زیادہ معیاری نیند کا سبب بنتا ہے۔ کدو کا مغز ٹرپٹو فین مادے سے بھر پور ہوتے ہیں اور یہ مادہ نیند لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ مغز میں شامل زنک، کاپر اور سیلینیئم بھی نیند کے دورانیے اور معیار میں اضافہ کرتا ہے۔
7۔ پروسٹیٹ کی صحت کے لئے مفید
کدو کا مغز اینٹی آکسیڈنٹ مادوں، روغنی ایسڈوں اور زنک کا حامل ہونے کی وجہ سے مردوں میں پروسٹیٹ کی صحت کے حوالے سے بھی مفید غذا ہے۔
تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ایسے مرد جنہیں قابل علاج پروسٹیٹ کینسر کا سامنا ہو کدو کا مغز ان میں بیماری کی شکایات کو کم کرنے اور معیارِ زندگی کو بلند کرنے میں مدد دیتا ہے۔
8۔ کینسر کے خلیات کے سکڑاو میں معاونت
بلند مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹ مادوں کی بدولت کدو کا مغز کینسر سے بچنے میں، کینسر کے خلیات کو سکڑانے میں اور کینسر کے پھیلاو کو روکنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ کدو کا مغز چھاتی کے کینسر کا سدّباب کرتا ور اس کے علاج میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ ایسے افراد جن کی خوراک میں کدو کا مغز شامل رہے انہیں معدے، پھیپھڑوں، انتڑیوں اور چھاتی کے کینسر سمیت کینسر کی متعدد اقسام کا خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔
9۔غذائیت
کدو کا مغز میگنیز اور وٹامن K جیسے وٹامن اور نمکیات کے حوالے سے بھی بہت مفید غذا ہے ۔ علاوہ ازیں یہ اپنے اندر شامل زنک کی بدولت نظامِ انہظام میں موجود بیکٹیریا کو جراثیموں کے خلاف جنگ لڑنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
10۔ پولی سسٹک اووری سینڈروم والی خواتین کے لئے مفید
بعض تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ کدو کا مغز پولی سسٹک اووری سینڈروم والی خواتین میں ہارمون کے توازن کو بحال کر کے طمانیت بخشتا ہے۔ کدو کا مغز بال جھڑنے اور ہڈیوں کے بُھربُھرے پن کا بھی سدّباب کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کدو کا مغز عورتوں میں کولیسٹرول کو کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
11۔ مثانے کے لئے مفید
کدو کا مغز انتہائی تیز رفتاری سے کام کرنے والے مثانے کو توازن میں لاتا اور پیشاب کے عمل میں درپیش مسائل کو دُور کرتا ہے۔