کراچی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ آخر کب تک کراچی میں اسی طرح نوجوانوں کے جنازے اٹھتے رہیں گے۔
تفصیلات کے مطابق امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے نارتھ کراچی سیکٹر 8 میں مسلح ڈکیتی کی واردات میں شہید ہونے والے نوجوان جہانگیر سہیل کی نماز جنازہ میں شرکت کی، لواحقین و پسماندگان سے ملاقات و اظہار تعزیت بھی کیا۔اس موقع پر امیر ضلع شمالی محمد یوسف،سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر بھی موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن کا میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سندھ حکومت ،محکمہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر میں مسلح ڈکیتوں کی روک تھام اور عوام کی جان ومال کے تحفظ میں ناکام ہوگئے ہیں ،سندھ حکومت و پولیس کی نااہلی و بے حسی کے باعث کراچی کا ایک اور نوجوان جہانگیر سہیل مسلح ڈکیتوں سے مزاحمت کے دوران ڈاکؤوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگیا۔
ان کا کہناتھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ بتائیں کہ آخر کب تک کراچی میں اسی طرح نوجوانوں کے جنازے اٹھتے رہیں گے؟،حکمران جماعتیں ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے اور وزارتوں کے حصول میں تومصروف ہیں لیکن عوام کی کسی کو بھی فکر نہیں ہے ، حکمران اتنے بے حس ہوگئے ہیں کہ انہیں مظلوموں کے جنازوں میں شرکت کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی۔ پولیس چیف کی جانب سے مسلسل یہی بیانات سامنے آتے رہتے ہیں کہ شہری مزاحمت نہ کریں اور سامان دے دیں
امیرجماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب بھی ان وارداتوں کی روک تھام کرنے میں حکومت کی ناکامی کا اعتراف کررہے ہیں،پولیس چیف بتائیں کہ شہر میں کھلے عام ڈکیتی کرنے والوں کے خلاف اقدامات کرنے کے بجائے کیوں ان سے مزاحمت کرنے پر منع کیا جارہا ہے ؟مسلح ڈکیتی اور ان میں قیمتی انسانوں کے ضیاع کی وارداتیں کم کیوں نہیں ہورہی ؟پولیس کراچی کے شہریوں کو کیوں تحفظ فراہم نہیں کررہی ؟۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ عوام کو تحفظ دینا حکومت ، ریاست اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ رینجرز کے حوالے سے بھی ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ انہیں کس حیثیت سے کراچی میں تعین کیا گیاہے ؟،جب پولیس ، رینجرز اور متعلقہ ادارے کراچی کے عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں تو ایسے میں کراچی کے عوام اپنے تحفظ کے لیے کیا کریں؟، اب کراچی کے عوام مزید اس لوٹ مار اورظلم کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔انہوں نے کہاکہ 8جنوری کو شاہراہ قائدین پر عظیم الشان اوراعلان کراچی جلسہ عام ہوگا جس میں اسٹریٹ کرائمز سمیت دیگر مسائل کے حل کے حوالے سے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
