کیا آپ کو معلوم ہے کہ ‘کوہِ ارارات’ اناطولیہ جزیرہ نما اور یورپ کا بلند ترین پہاڑ ہے؟
ترکیہ کی بلند ترین چوٹی ‘ارارات’ ،ترکیہ ہی نہیں 5137 میٹر بلندی کے ساتھ یورپ کی بھی بلند ترین چوٹی ہے۔ اپنی اس خصوصیت کی وجہ سے یہ پہاڑ دنیا بھر کے کوہ پیماوں کا مرکزِ توجہ بنتا ہے۔ ارارات، مشرقی اناطولیہ کے آتش فشانی پہاڑی سلسلے کا پہاڑ ہے اور ترکیہ، ایران اور آرمینیا کے سرحدی ملاپ پر واقع ہے۔ اس آتش فشانی پہاڑ کو ترکی زبان میں ‘آغری داع’ کے نام سے اور عبرانی و یورپی زبانوں میں ‘ارارات’ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
ارارات کاگھیراو تقریباً 130 کلو میٹر ہے اور اس کی چوٹی سال کے چاروں موسموں میں گلیشیئروں سے ڈھکی رہتی ہے۔ ترکیہ کا بلند ترین مقام ہونے کی وجہ سے اسے ترکیہ کی چھت بھی کہا جاتا ہے۔ اس پہاڑ پر بیک وقت صحرائی اور قطب شمالی کا موسم دیکھا جا سکتا ہے۔ مارکو پولو کی ناقابلِ تسخیر قرار دی گئی یہ چوٹی پہلی دفعہ 9 اکتوبر 1829 میں ‘پروفیسر فریڈرک وان پاراٹ’ نے سَر کی۔ تاہم ترک کوہ پیماوں کا اس پہاڑ کو سر کرنا 21 فروری 1970 کو ممکن ہو سکا۔ یہ کوہ پیمائی موسم سرما میں کی گئی اور پہاڑ کو سر کرنے والے ترک کوہ پیما ‘ترکیہ کوہ پیمائی فیڈریشن’ کےسابق سربراہ ڈاکٹر بوزکُرت ارگور تھے۔ اس پہلی سرمائی کوہ پیمائی کے بعد بھی متعدد دفعہ موسم سرما میں چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ہر کوشش شدید موسمی حالات کی وجہ سے ناکام ہوتی رہی۔ پہاڑ کو سَر کرنے کے لئے موسمِ گرما کے موزوں ترین مہینے جولائی، اگست اور ستمبر ہیں اور موسم سرما میں فروری کا مہینہ بہترین سمجھا جاتا ہے ۔ ملکی و غیر ملکی کوہ پیماوں میں پہاڑ کی سولو کوہ پیمائی کو بڑے پیمانے پر ہیجان و کامیابی کا سبب قبول کیا جاتا ہے۔
کوہِ ارارت اپنی بلندی، گلیشیئروں، انسانوں اور رنگا رنگ پھولوں کی وجہ سے ایک نہایت دلچسپ اور مسحور کن منظر کا مالک ہے۔ اپنے قدرتی حسن و جمال کے ساتھ ساتھ یہ پہاڑ، الٰہی کتابوں میں بیان کئے گئے، طوفانِ نوح کا بھی مرکزِ کردار ہے۔ عقائد کے مطابق طوفان کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اس پہاڑ پر آ کر رُکی۔ یہ عقیدہ پہاڑ کو ایک افسانوی شناخت بھی عطا کرتا ہے۔