ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

شہزادہ ہیری کے 25 افغانیوں کو قتل کرنے کے اعتراف پر طالبان کا شدید رد عمل

طالبان حکام نے شہزادہ ہیری، ڈیوک آف سسیکس پر ردعمل کا اظہار کیا، جنہوں نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں اپنی فوجی خدمات کے دوران 25 افراد کو قتل کیا تھا اور وہ اس پر شرمندگی محسوس  نہیں  کرتے۔

طالبان نے شہزادہ ہیری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’افغانستان پر مغربی قبضہ انسانی تاریخ کا افسوسناک لمحہ تھا، شہزادہ ہیری کا بیان قابض فوج کے ہاتھوں پہنچنے والے اُس صدمے کی عکاسی کرتا ہے جس سے افغانی دوچار ہوئے۔

طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان عبدالقهار بیلہی نے کہا: کہ ” شہزادہ ہیری کا یہ تبصرہ معصوم انسانوں کو بلا پوچھ گچھ قتل کرنے والی قابض قوتوں  کے ہاتھوں افغان عوام کو پہنچنے والے نقصانات کی ایک  چھوٹی سی مثال ہے۔

طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے  ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ افغان "قبضے کے جرائم” کو نہیں بھولیں گے۔

"اس طرح کے جرائم صرف ایک ملک تک محدود نہیں ہیں۔ ہر وہ ملک جس نے افغانستان پر حملے کیے ہیں  اس کی کہانیاں ایک جیسی ہیں۔”

حقانی گروپ کے رہنما، انیس حقانی، جو طالبان کے اہم  شراکت داروں میں شامل ہیں  نے بھی اس موضوع پر  ایک بیان دیا ہے۔

اس حقیقت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہ شہزادہ ہیری نے افغانستان میں 25 افراد کی ہلاکت کو "بورڈ سے شطرنج کے ٹکڑوں کو ہٹانے” کے طور پر دیکھا، حقانی نے کہا،”تم اس جنگ میں شکست کھا گئے تھے۔ تم نے جن لوگوں کو مارا وہ شطرنج کے مہرے نہیں  بلکہ انسان  تھے۔”

برطانوی شاہی خاندان  سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے  متحدہ  امریکہ  میں آباد ہونے والے ہیری نے اپنی کتاب’اسپیئر‘   جو کہ 10 جنوری کو شائع ہو گی میں افغانستان میں اپنی فوجی خدمات کے دوران کی یادوں کو بھی جگہ دی ہے۔  انہوں نے لکھا کہ اس دوران انہوں نے 25 افغانی شہریوں کو مارا تھا جس پر انہیں  ندامت نہیں ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں