ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سری لنکا کا حکومتی اخراجات گھٹانے کے لیے فوج میں ایک تہائی کمی کا فیصلہ

سری لنکا اپنے اخراجات گھٹانے کے لیے اگلے سال سے اپنی فوج میں ایک تہائی کی کمی کرنے کے منصوبے پر عمل شروع کر دے گا۔ وزیر دفاع پریمتھا بندارا تھینکون نے جمعے کے روز بتایا کہ حکومت اپنی فوج کی موجودہ تعداد میں لگ بھگ 35 ہزار کی کمی کرے گی۔

اس وقت سری لنکا کی فوج ایک لاکھ 35 ہزار نفوس پر مشتمل ہے جسے منصوبے کے مطابق 2030 تک ایک لاکھ تک لایا جائے گا۔

سری لنکا کو اس وقت گزشتہ 70 برسوں کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اسے ڈیفالٹ کرنا پڑا کیونکہ زر مبادلہ کی شدید قلت کے باعث وہ اپنے ذمے واجب لادا بیرونی ادائیگیوں کے قابل نہیں رہا تھا۔

زرمبادلہ کی کمی کے نتیجے میں سری لنکا میں خوراک، ایندھن اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔


چین کے زیر انتظام سری لنکا کی بندرگاہ ہمبنٹوٹا پر سری لنکا کا ایک کارکن گودی پر کھڑا ہے ۔ فوٹو اے پی 16 اگست 2022

چین کے زیر انتظام سری لنکا کی بندرگاہ ہمبنٹوٹا پر سری لنکا کا ایک کارکن گودی پر کھڑا ہے ۔ فوٹو اے پی 16 اگست 2022

وزیر دفاع کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی اخراجات بنیادی طور پر ریاستی اخراجات ہیں جو بالواسطہ طور پر قومی اور انسانی سلامتی کو یقینی بنانے کے ذریعے اقتصادی ترقی کی راہیں کھولتے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

تھینکون نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد 2030 تک ملک کو تکنیکی اور حکمت عملی کے لحاظ سے ایک صحیح اور متوازن دفاعی قوت بنانا ہے۔

عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2017 اور 2019 کے دوران سری لنکا کی افواج تین لاکھ 17 ہزار فوجیوں پر مشتمل تھیں جب کہ باغی گروپ لبیریشن ٹائیگرز کے ساتھ 25 سالہ جنگ کے دوران یہ تعداد اس سے بھی زیادہ تھی۔ 2009 میں ٹائیگرز کی بغاوت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔


کولمبو میں تیل خریدنے کے لیے لوگ لمبی قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

کولمبو میں تیل خریدنے کے لیے لوگ لمبی قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

کولمبو میں قائم ایک تھنک ٹینک ویریٹ ریسرچ کا کہنا ہے کہ 2021 میں سری لنکا کی کل قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں دفاعی شعبے کا حصہ 2 اعشاریہ 31 فی صد تھا جو 2022 میں گھٹ کر 2 اعشاریہ 03 فی صد رہ گیا تھا۔

سمندر سے گھرے اس ملک کی کل آبادی 2 کروڑ 20 لاکھ ہے اور اس کی آمدنی کا زیادہ تر انحصار سیاحت پر ہے جسے کرونا وائرس کی عالمی وبا کے پھیلاؤ سے سخت نقصان پہنچا ہے۔

(اس رپورٹ کے لیے کچھ معلومات رائٹرز سے حاصل کی گئی ہیں۔)

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں