ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

گزشتہ سال یورپی یونین میں غیر قانونی داخلے 2016 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر

یورپی یونین میں غیر قانونی داخلے گزشتہ سال 2016 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔

یورپی یونین کی بارڈر سیکیورٹی ایجنسی فرنٹیکس کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا  وبا کی وجہ سے عائد پابندیوں میں نرمی کے بعد 2021 اور 2022 میں یورپی یونین کے ممالک میں غیر قانونی داخلوں میں اضافہ ہوا ہے۔

2022 میں غیر قانونی طور پر سرحدوں میں داخل ہونے والوں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 64 فیصد کے اضافے سے  3 لاکھ  30 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔  جو کہ  2016 کے بعد کی  سب سے زیادہ تعداد  ہے۔

گزشتہ برس مغربی بلقان  گزرگاہ کے طور پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والا راستہ تھا۔ اس راستے سے  ایک لاکھ45 ہزار 600  غیر قانونی  تارکین وطن  یورپی یونین کے ممالک میں داخل ہوئے۔ مغربی بلقان سے آنے والوں میں 2021 کے مقابلے میں 136 فیصد اضافہ ہوا ہے، 2015 کے بعد اس راستے پر سب سے زیادہ غیر قانونی طور پر بارڈر کراسنگ ریکارڈ کی گئی۔ مغربی بلقان کے راستے  کو استعمال  کرنے والے  زیادہ تر شامی شہری  تھے۔

دوسرے نمبر کی گزر گاہ وسطی بحیرہ روم سے داخل ہونے والوں کی تعداد ، 51 فیصد  کی شرح سے بڑھ کرایک لاکھ 2 ہزار 529 ہو گئی۔ یہ راستہ زیادہ تر مصری، تیونسی اور بنگلہ دیشی استعمال کرتے تھے۔ تیسرے نمبر پر مشرقی بحیرہ روم سے آنے والوں کی تعداد 108 فیصد بڑھ کر 42 ہزار 831 ہو گئی۔ شامی، افغانی اور نائجیرین سب سے زیادہ مشرقی بحیرہ روم کا راستہ استعمال کرتے ہیں۔

جو یورپی یونین کے ممالک میں غیر قانونی داخلوں میں پہلے نمبر پر شامی شہری  ہیں تو  ان کے بعد افغانی اور تیونسی  شہری ہیں۔

 

علاوہ ازیں  روس کے یوکرین پر حملے کے آغاز سے  لیکر گزشتہ سال کے اختتام تک  تقریباً 13 ملین یوکرینی پناہ گزین یوکرین اور مالڈووا سے یورپی یونین کی سرحدوں میں داخل ہوئے۔  بتایا گیا ہے کہ اسی عرصے میں 10 ملین یوکرینی  شہری  یورپی ممالک سے  باہر نکلے  ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں