ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

چشمہ شفاء۔20

ڈاکٹر مہمت اُچار کے طبّی مشوروں کے ساتھ آ پ کی خدمت میں حاضر ہیں۔

آج ہم آپ کے ساتھ صحت کے جس موضوع پر بات  کریں گے وہ ہے "بچوں کی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے والی گھریلو تجاویز”۔

صحت مند نظامِ مدافعت ہمیں خود کو زیادہ بہتر محسوس کرنے، اچھا دِکھائی دینے اور اپنی توانائی کو بہتر شکل میں استعمال کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔

 

تو آئیے دیکھتے ہیں کہ بچوں کےنظامِ مدافعت کو مضبوط بنانے کے لئے کیا کچھ کرنا  چاہیے۔

1۔ متوازن غذا اور نیند

متوازن غذا ،بھرپور نیند ، ہاتھوں کو صابن کے ساتھ اور اچھی طرح دھونا اور وقفوں وقفوں کے ساتھ کمرہ جماعت میں ہوا کا گُزر  یقینی بنانا بچوں کی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے کے لئے سرفہرست تدابیر ہیں۔

 

2۔ پانی کا وافر استعمال

بچوں کو متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھ کر ان کے نظامِ مدافعت کو مضبوط بنانے کے لئے وافر مقدار میں پانی پِلائیں۔

 

3۔ سامن مچھلی

اومیگا 3 سے مالا مال ہونے کی وجہ سے سامن مچھلی بچوں کی ذہنی نشوونما میں مدد دیتی اور اس کے ساتھ ساتھ متعدی بیماریوں سے بچاتی ہے۔ بچوں کو مچھلی تنہا بھی کھلائی جا سکتی ہے اور اوون میں سبزیوں کے ساتھ پکا کر بھی۔

 

4 ۔ کیوی

وافر مقدار میں وٹامن سی کا حامل ‘کیوی’ جسم کے دفاعی نظام میں شامل اینٹی آکسیڈنٹوں  کے حوالے سے بھی نہایت اہم پھل ہے۔

ایسے بچے جن میں فولاد کی کمی ہو انہیں کیوی کے اوپر’ پیکمیز’یعنی انگور کا شیرہ  ڈال کر کھِلانا چاہیے۔ کیوی میں شامل وٹامن سی، پیکمیز میں شامل فولاد کو زیادہ وافر مقدار میں  جسم میں جذب ہونے میں مدد دیتا ہے۔

 

5۔ گھر کا جما ہوا دہی

بچوں کو دن میں ایک دفعہ اور ایک پیالی گھر کا جما ہوا دہی   ضرو رکھلائیں۔ یہ دہی آپ بچے کو کھانے کے ساتھ بھی کھلا سکتے ہیں اور کھانوں کے درمیانی وقفوں میں اس میں پھل شامل کر کے بھی۔ اگر آپ کے بچے کو گائے کے دودھ سے الرجی ہو تو دہی کے لئے بکری کا دودھ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

 

6۔ جئی کا دلیہ

جئی کے دلیے میں شامل بیٹا گلوکین اور زنک کی بدولت بچوں میں نظامِ مدافعت مضبوط ہوتا  ہے۔ پوسے کی وافر مقدار  کا حامل جئی کا دلیہ دودھ  اور وٹامن ای سے مالا مال غذا یعنی باداموں کے ساتھ بلینڈر میں پیسیں۔ اس دلیے کو آپ  بچوں کو ناشتے میں کھِلا سکتے ہیں۔

 

7۔ بروکلی

سی، اے اور ای وٹامنوں سے بھرپور ہونے کی وجہ سے بروکلی اینٹی آکسیڈنٹ کا خزانہ ہے۔ اسے سبزی کی شکل میں ، سلاد کی شکل میں یا پھر سُوپ کی شکل میں بچوں کے خوراک پروگرام میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

 

8۔ دال

مسور کی دال یا پھر سالم مسور کو، سالن کی شکل میں یا پھر سوپ کی شکل میں، خاص طور پر موسمِ سرما اور موسمِ خزاں میں ہفتے میں دو دفعہ بچوں کو ضرور  کھِلائیں۔ نباتاتی پروٹین کی بدولت یہ دال بچوں کی نشو ونما میں مدد دیتی ہے۔

 

9۔ انڈہ

انڈہ پروٹین سے بھرپور ایک ایسی غذا ہے کہ جس کی، ماں کے دودھ کے بعد، جسم سب سے زیادہ ضرورت محسوس کرتا ہے۔ انڈے کو اُبال کر، آملیٹ کی شکل میں یا پھر ٹماٹر پیاز کے ساتھ پکا کر جیسے آپ کا بچہ پسند کرتا ہو اس شکل میں لیکن ہر روز کھِلائیں۔

 

10۔ خشک میوہ جات

بچوں کی قوّت مدافعت کو مقوی بنانے کے لئے ان کے لنچ بکس میں کچے بادام، اخروٹ کی گِری اور کدو کا مغز رکھا جا سکتا اور بچے کو ان خشک میوہ جات کو کھانے کا عادی بنایا جا سکتا ہے۔ مذکورہ میوہ جات صرف ناشتے میں مٹھی بھر  مقدار میں بچوں کو دینے سے ان کے جسم میں یومیہ وٹامن ای کی مقدار پوری ہو جاتی ہے۔

 

11۔ رائل جیلی اور شہد

تین سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو ہر صبح ناشتے سے پہلے رائل جیلی کو ایک چائے کے چمچ شہد میں ملا کر کھِلانا قوت مدافعت کی مضبوطی کے حوالے سے نہایت اہم غذا ہے۔  خیال رکھیں کہ یہ مقدار چائے کے چمچ سے زیادہ نہ ہو۔ علاوہ ازیں 3 سال سے کم عمر یا پھر الرجی اور دمے کے مریض بچوں کویہ   آمیزہ دینے سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔

 

12۔ اجوائن

اجوائن کو روزانہ چائے کی شکل میں استعمال کرنے سے نظامِ مدافعت مضبوط ہوتا ہے۔ یہ چائے گلے کی سوجن جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی مدد دیتی ہے۔ اصل میں اجوائن کی چائے کو مکمل معنوں میں کھانسی، نزلے اور  زکام سے بچانے  کا شربت کہا جا سکتا ہے۔

اس چائے کو تیار کرنے کا طریقہ یوں ہے کہ ایک گلاس پانی میں 2 چائے کے چمچ اجوائن شامل کر کے اسے اُبالیں۔ اُبال آنے کے بعد چائے کو چولہے سے اُتار لیں اور ایک میٹھے کا چمچ شہد مِلا کر روزانہ بچے کو پِلائیں۔

 

13۔ ادرک اور ہلدی والا دہی

روازنہ گھر کے جمے دہی کی ایک پیالی میں ایک ایک چائے کا چمچ ہلدی اور ادرک مِلا کر کھانانظامِ مدافعت کو مضبوط بناتا  ہے اور پورے موسم سرما میں آپ کے بچے کو جراثیموں اور متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

 

14۔ کیلا اور دہی

روزانہ گھر کے جمے دہی کی ایک پیالی میں ایک چھوٹے سائز کا کیلا مَسل کر کے یا پھر قتلے کر کے ملائیں اور یہ آمیزہ بچے کو کھِلائیں۔ دہی اور کیلا اپنے اندر شامل مفید بیکٹیریا کی مدد سے نقصان دہ جراثیم کی نشوونما کو روکتا اور قوت مدافعت کو تقویت دیتا ہے۔ دہی اور کیلا اہم ترین پری بائیوٹک غذائیں ہیں اور اکٹھے استعمال کئے جانے کی صورت میں نہایت موئثر ثابت ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے کھانوں کے درمیانی وقفے میں کیلے اور دہی ، بطور اسنیک، بچے کو کھِلایا جا سکتا ہے۔

 

15۔ لہسن

لہسن ایک قدرتی اینٹی بائیوٹک سبزی ہے۔ اس میں شامل موئثر مادے اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل اثرات کے حامل ہیں۔ لہسن نہ صرف آپ کے بچے کو متعدی بیماریوں سے بچاتا ہے بلکہ آنے والے دنوں میں دمے کے خطرے سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن ان تمام فوائد سے استفادے کے لئے اسے کھانوں میں، رائتے میں یا پھر سلاد    میں کچی شکل میں استعمال کیا جانا چاہیے کیونکہ  گھی میں تلا ہوا لہسن کچے لہسن جتنا موئثر نہیں رہتا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں