امریکی امور خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے ایک یونانی صحافی کے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ترکیہ سے امریکہ کے دیرینہ دفاعی تعلقات قائم ہیں۔
امریکی امور خارجہ میں یومیہ پریس کانفرنس کے دوران ایک یونانی صحافی نے پوچھا کہ کیا ترکیہ کو ایف سولہ طیاروں کی فراہمی پابندیوں کے زمرے میں نہیں آتی تو اس کے جواب میں نائب ترجمان نے کہا کہ عسکری سازو سامان کی فروخت کے لیے ایک الگ جائزاتی غور و فکر کی جاتی ہے لہذا کاتسا قانون کے حوالے سے فی الوقت یہ بات زیر غور نہیں ہے ۔
دوسری جانب نائب ترجمان نے صدر بائیڈن کے ماہ جون میں ترکیہ کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت اور موجودہ طیاروں کو جدید بنانے سے متعلق بیان کے حوالے سے کہا کہ امریکہ نیٹو اتحادی ممالک کو اہمیت دیتا ہے،ترکیہ کے ساتھ امریکہ کے دیرینہ دفاعی تعلقات موجود ہیں جو کہ ہمارا اہم اتحادی ملک بھی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی کانگریس نے سال 2017 کے دوران روس سمیت امریکہ مخالف دشمنانہ نظریات رکھنے والے ممالک کے خلاف پابندیوں پر مشتمل کاتساقانون منظور کیا تھا۔
اس قانون کے تحت روس کے ساتھ عسکری سازو سامان کی خرید و فروخت کرنے والے ممالک پر پابندیاں لگائی جاتی تھیں جس میں سابقہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ترکیہ کو بھی ایس چار سو میزائل لینے کی بنا پر شامل کیا تھا لیکن یہ پابندیاں ترک وزارت دفاع کے بجائے صدارتی امور برائے دفاع پر لاگوکی گئی تھیں لہذا ایف سولہ طیاروں کی خرید کے لیے ترک وزارت دفاع نے رجوع کر رکھا ہے جو کہ ان پابندیوں کے زمرے میں نہیں آتی ۔