اسرائیل کے کینیڈا کے لئے سفیر ‘رونن ہوف مین’ نے ، گذشتہ سال کے آخر میں اقتدار سنبھالنے والے وزیر اعظم بنیامین نیتان یاہو کی حکومتی پالیسیوں کو وجہ دکھا کر ،عہدہ سفارت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ہوف مین نے استعفیٰ درخواست میں کہا ہے کہ "میں، نئی حکومت کی پالیسیوں کے تحت فرائضِ منصبی سرانجام نہیں دے سکوں گا”۔
اسرائیل کی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے ہوف مین کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق ہوف مین کو، اسرائیل کے سابق وزیر اعظم، یائر لاپڈ کے دور میں سفیر متعین کیا گیا تھا۔
ہوف مین سے قبل اسرائیل کے پیرس کے سفیر یائل گرمین نے بھی، نیتان یاہو کے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد، 29 دسمبر 2022 کو استعفی دے دیا تھا۔
واضح رہے کہ نیتان یاہو کی انتہائی دیندار یہودیوں اور انتہائی متعصب پارٹیوں کے ساتھ مل کر قائم کردہ نئی حکومت نے 2022 کے اواخر میں اقتدار سنبھال لیا تھا۔
فلسطینیوں کے خلاف امتیازیت اور نسلیت پرستانہ پالیسیوں کی وجہ سے مشہور نئی اتحادی حکومت کو اسرائیل کی تاریخ کی متعصب ترین حکومت قرار دیا جا رہا ہے۔