ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

حکومت کی عوام پر ایک اور پٹرول بم گرانے کی تیاری

ڈالر کی قیمت میں اضافے اور آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیموں میں اضافے کا امکان ہے۔ پیٹرول کی قیمت 288.03 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 323.29 روپے فی لیٹر ہونے کا امکان ہے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اورمعروف ریسرچ فرم عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی جانب سے اعداد و شمار جاری کئے گئے ہیں جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت 288.03 روپے فی لیٹر ہونے کا امکان ہے۔

جاری شدہ اعدادو شمار کے مطابق مجموعی سیلز ٹیکس زیرو  ہونے کی صورت میں پیٹرول کی قیمت 246.18 روپے ہوگی اور 10 فیصد  ٹیکس کے ساتھ قیمت 270.80 روپے ہو گی تاہم اگر آئی ایم ایف کی مجوزہ شرائط کے مطابق 17 فیصد  ٹیکس عائد کیا گیا تو پیٹرول کی قیمت 288.03 روپے ہو گی جو کہ اب تک کی بلند ترین قیمت ہو گی۔

اسی طرح ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 323.29 روپے فی لیٹر  ہونے کا امکان ہے۔ زیرو مجموعی سیلز ٹیکس کے ساتھ قیمت 276.32 جبکہ 10 فیصد ٹیکس کے ساتھ 303.95 روپے اور 17 فیصد ٹیکس کے ساتھ قیمت 323.29 ہونے کا امکان ہے۔

ممکنہ طور پر آئندہ چند دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھی بھجوا دی جائے گی۔

واضح رہے کہ پیٹرول کی موجودہ قیمت 214.80 روپے فی لیٹرجبکہ ڈیزل کی قیمت 227.80 روپے فی لیٹر ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں