ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کے خلاف سیکیورٹی فورسز پر حملے کا مقدمہ درج

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنماء اور سابق وزیر مملکت فرخ حبیب پر تھانہ فیروز والا شیخوپورہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

پنجاب پولیس نے پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب اور ان کی پارٹی کے کئی کارکنوں کے خلاف فواد چوہدری کی رہائی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کرنے اور ڈکیتی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

پی ٹی آئی رہنما کے خلاف ایف آئی آر اسلام آباد پولیس کے اہلکار عدیل شوکت کی شکایت پر شیخوپورہ کے فیروز والا تھانے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 148، 149، 186، 225، 341، 353 اور 395 کے تحت درج کی گئی۔

ایف آئی آر کے مطابق حبیب نے اپنی پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی وردی پھاڑ دی اور ان سے ایک وائرلیس سیٹ چھین لیا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فرخ حبیب نے لاہور ٹول پلازہ پر پولیس کی گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی اور اس پورے واقعے کے دوران  پی ٹی آئی رہنما بار ہاکہتے رہے ، ‘لاہور ہائی کورٹ نے فواد چوہدری کو طلب کیا۔ ہم عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے۔’

دوسری جانب سابق وزیر مملکت نے خود کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو ‘ماٹھی کہانی’ قرار دے دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک پیغام میں فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ درجنوں بندوقوں والے تربیت یافتہ پولیس والوں سے نہتے اکیلے فرخ حبیب نے ڈکیتی کرلی اور ان کی وردیاں بھی پھاڑ دیں ایف آئی آر کا متن، ویسے بہت ہی ماٹھی کہانی بنائی ہے۔

پی ٹی آئی رہنماء نے مزید کہا کہ میں نے تو ویسے بغیر نمبر پلیٹ کالے ویگو کو روکا تھا عدالتی احکامات بتانے کے لئے یہ پولیس کے ساتھ ڈکیتی کہاں سے آگئی؟

واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنما فرض حبیب کی جانب سے فواد چوہدری کو اسلام آباد لے جانے والی پولیس کی گاڑی کو 25 جنوری کو روک لیا گیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں