ریاض:سعودی عرب میں لاکھوں غیر ملکی برسوں سے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مقیم ہیں۔ یہاں رہنے والیتارکین کو شادی کے لیے مقررہ قواعد پرعمل کرنا لازمی ہے۔
خانگی امور کے ماہر قانون اور مشیر احمد المحیمید کا کہنا ہے کہ سعودی وزارت عدل نے مملکت میں مقیم غیرملکیوں کو اپنے ہم وطنوں سے شادی کے لیے سہولت فراہم کی ہوئی ہے اس میں شرعی تقاضوں کومدنظر رکھا گیا ہے جن میں ولی الامر کا ہونا بنیادی شرط ہے۔
ماہرقانون المحیمید نے کہا کہ سعودی قانون میں سعودی مرد سے غیرملکی خاتون یا سعودی خاتون سے غیرملکی مرد کی شادی کے لیے بعض شرائط مقرر کی گئی ہیں۔غیرملکی کا سعودی سے نکاح سے قبل ریجن کی گورنریٹ سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔
سفارتخانے کے کردار پر سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ غیرملکی مرد یا خاتون کی سعودی مرد یا خاتون سے شادی کے لیے سفارتخانوں کا کوئی عمل دخل نہیں تاہم ریجن کی گورنریٹ سے شادی کے لیے این اوسی حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
