جے پور:بھارتی پولیس نے مبینہ طور پر گائے کی اسمگلنگ کے الزام میں دو مسلمانوں کو قتل کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔
مزید پڑھیں: گائے کی اسمگلنگ اور ذبح کرنے کا الزام: اترپردیش میں 120 گرفتار
بھارتی ٹی وی کے مطابق ہندو مذہب میں گائے کو انتہائی مقدس مانتے ہوئے اس کی عبادت کی جاتی ہے اور بھارت کی کئی ریاستوں میں گائے ذبح کرنے پر پابندی ہے۔
۔35سالہ جنید اور 27سالہ ناصر بدھ کو لاپتا ہوئے تھے اور ان کی لاشیں ایک دن بعد ریاست ہریانہ میں ایک جلی ہوئی گاڑی میں انتہائی بری حالت میں ملیں۔
دونوں افراد کا تعلق ریاست راجستھان سے تھا اور ان کے لاپتا ہونے کے بعد ان کے اہل خانہ نے پولیس میں درج شکایت میں انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل سے تعلق رکھنے والے 5 افراد کو رپورٹ میں نامزد کیا تھا۔
پولیس افسر شیام سنگھ نے بتایا کہ ہم نے اب تک ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے اور مزید ملزمان کو تلاش کر رہے ہیں۔راجستھان پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ گرفتار شخص ایک ٹیکسی ڈرائیور ہے اور گائے کے حوالے سے متحرک گروپ کا رکن ہے۔
مرکزی مشتبہ ملزم نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت پور کے انسپکٹر جنرل گورو شری واستو نے کہا کہ جنید کے خلاف گائے کی اسمگلنگ کے مقدمات درج کیے گئے تھے البتہ ناصر کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں تھا۔
راجستھان کے وزیر زاہد خان نے متاثرہ خاندانوں کے گھر کا دورہ کیا اور لواحقین کو فی کس 20 لاکھ روپے دینے کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ کہا کہ ریاستی حکومت دونوں خاندانوں کے ایک فرد کو نوکری دینے کی کوشش کرے گی۔
راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوٹ نے ٹوئٹر پر دونوں افراد کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
