لاہور:نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان اور مرکزی الیکشن سیل کے چیئرمین لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ صدرِ مملکت نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 09 اپریل کو انتخابات کا اعلان کردیا ہے، جبکہ آئین میں انہیں اِس کا اختیار نہیں۔
لیاقت بلوچ نے کہا پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ تو ہوگئی لیکن عوام دیکھ رہے ہیں کہ ایوانِ صدر، گورنر ہاوس، وفاقی اور پنجاب و خیبرپختونخوا کی نگراں حکومتوں نے آئین کے ساتھ غیرسنجیدگی کا کھلواڑ جاری رکھا ہوا ہے، آئینی عہدے آئین سے ہی مذاق کررہے ہیں۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہگورنرز، نگران حکومت اور الیکشن کمیشن آئینِ پاکستان کے تحت پابند ہیں کہ قبل از وقت اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد 90 دِن میں انتخابات کرائیں۔ پنجاب اور کے پی کے میں 90 دِن کی مدت میں انتخابات نہ کرانا صریحا آئین سے بغاوت ہوگا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ عمران خان نے پہلے قومی اسمبلی تحلیل کی، استعفوں کا اقدام کیا، جب یہ حربے کارگر نہ ہوئے تو پنجاب، خیبرپختونخوا اسمبلیاں تحلیل کرادیں۔ جب عمران خان احتجاج کے بے نتیجہ ہونے پر اسمبلیوں سے کھیل کھیل رہے ہیں تو ان کے مخالف بھی تو ایسا ہی غیرمقبول کھیل کیوں نہیں کھیلیں گے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان بدترین بحرانوں میں ڈوب رہا ہے، اقتصادی، سیاسی، پارلیمانی بحران عوام کے لیے جان لیوا بنا ہوا ہے، انتخابات ہی بحرانوں کا جمہوری، پائیدار حل ہے لیکن انتخابات کا قِسطوں میں ہونا سیاسی بحران کو مزید گھمبیر بنادے گا۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ سیاسی، جمہوری قیادت ضِد، انا، ہٹ دھرمی ترک کریں؛ جمہوری، سیاسی بالغ نظری کا کردار ادا کریں اور قومی ڈائیلاگ کریں؛ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ایک وقت میں انتخابات کے لیے اتفاقِ رائے کریں، وگرنہ ٹکراو کا اسلوب مزید تباہی لائے گا۔
رہنما جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ 27 فروری 2023 کو جماعتِ اسلامی اسلام آباد میں انتخابات 2023 کنونشن منعقد کررہی ہے۔ قومی، صوبائی اسمبلیوں کے امیدواران کا اعلان کیا جائے گا اور امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق ملک گیر انتخابی مہم کا لائحہ عمل دیں گے۔
