کوئٹہ:جماعت اسلامی پاکستان کے رہنماء و سینیٹر مشتاق احمد نے مطالبہ کیا کہ تمام نجی جیلوں کو ختم کیا جائے ٹانگیں ہماری نہیں بلکہ ان لوگوں کی توڑ دینی چاہیے جو لوگوں کو قتل اور ان پر تیزا ب پھینک کر لاشیں کنویں میں پھینک دیتے ہیں اور نجی جیل قائم کر رکھے ہیں۔
سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ یہ جنگ کسی ایک قبیلے کی نہیں بلکہ پورے قوم کی جنگ ہے بلوچستان کے تمام پشتون بلوچ قبائل متحد ہیں بالادست طبقے ہمیں فرقوں میں تقسیم کرکے لڑانے کی کوشش کریں گی مگر میں تمام قبیلوں کو کہتا ہوں کہ اپنا اتحاد و اتفاق قائم رکھیں اور ظالموں کو پہنچان لیں۔
انہوں نے کہاکہ چاہے ان کا تعلق جس بھی قبیلے سے ہو ہمارا اتحاد و اتفاق مظلوموں کا اتحاد اور جابروں کے خلاف ہے جو ہاتھ کی مٹھی کی طرح متحد ہیں انہیں تقسیم کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔
سینیٹر مشتاق احمد نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ خاتون توآپ کی عزت، ننگ اور غیرت تھی آپ سے تو ان کی نگرانی اور پاسداری کی توقع کی جاتی ہے مگر آپ کہاں ہو؟ زندہ ہو؟ کیا تمہیں بلوچ خواتین کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں؟
رہنما جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ سینٹ میں، میں بلوچستان کا نمائندہ ہوں میں آپ لوگوں کے لئے اسلام آباد میں لڑوں گا۔ آپ مجھے بلائیں گے تو دن تو کیا رات کو بھی حاضر ہوجائوں گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تمام نجی جیلوں کو ختم، قیدیوں کو بحفاظت بازیاب اور بارکھان میں قتل ہونے والی خاتون اور 2نوجوانوں کے قتل کا مقدمہ ان لوگوں کے خلاف درج کیا جائے جن کے خلاف ان کے والد درج کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نجی جیلوں اور بارکھان واقعہ کی سپریم کورٹ پاکستان کی جانب سے جوڈیشل انکوائری اور سینٹ و قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی سے پارلیمانی انکوائری کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، اب تو ہماری بچیاں بھی لاپتہ ہیں اگر لوگوں کو اٹھانا اور لاپتہ کرنا ہے تو پھر عدالتوں کو بند کرکے تالے لگادیئے جائیں۔
