ترکیہ کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے دارالحکومت انقرہ میں لبنان کے وزیر برائے امورِ خارجہ و امورِمہاجرت عبداللہ بو حبیب اور وزیرِ رسل و رسائل علی حامیہ کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
خطاب میں انہوں کہا ہے کہ ترکیہ میں 6 فروری کے زلزلے کے بعد پہلے دن سے ہمارے تمام ادارے فیلڈ میں ہیں اور ہم نے بین الاقوامی امدادی ٹیموں کی ترکیہ آمد کے لئے ضروری کوآرڈینیشن فراہم کیا ہے۔
چاوش اولو نے کہا ہے کہ "ہمیں، 102 ممالک نے مدد کی پیشکش کی۔ 90 ممالک سے امدادی اور صحت کی ٹیمیں ترکیہ آئیں۔ فیلڈ ہسپتال قائم کئے گئے اور ہمارے ساتھ بڑے پیمانے پر تعاون کیا گیا ہے۔ ہم، تمام بین الاقوامی برادری کا ایک دفعہ پھر شکریہ ادا کرتے ہیں”۔
انہوں نے کہا ہے کہ بیرونی ممالک سے آنے والے خیموں کی تعداد 93 ہزار 637 ہو گئی ہے اس کے علاوہ کنٹینر سِٹی سے متعلقہ کام بھی جاری ہیں۔ اقوام متحدہ نے ایمرجنسی اپیل میکانزم کو فوری طور پر فعال کر دیا اور ہنگامی ضروریات کی تکمیل کی خاطر، 3 ماہ کے اندر اندر ترکیہ کو 1 بلین ڈالر مالیت کی امداد دینے کی اپیل کی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اقوام متحدہ سمیت مختلف ممالک سے زلزلہ زدہ علاقے میں مصروفِ عمل ہیں”۔
وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ یورپی یونین نے ترکیہ کے ساتھ تعاون کے لئے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے اور متوقع امداد کے استعمال کے لئے ہم نے اداروں کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
لبان کے وزیر عبداللہ بو حبیب نے بھی کہا ہے کہ "ہمارے ترکیہ کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں ہم نے اپنے برادر ملک ترکیہ کی مدد کی ہے اور ہمیں یاد ہے کہ ہمارے مشکل دِنوں میں ترکیہ بھی ہمارا ساتھ دے چُکا ہے”۔
واضح رہے کہ 6 فروری کو ترکیہ کے ضلعے قہرمان ماراش میں 7،7 اور 7،6 کی شدت سے زلزلہ آیا۔ صدی کی آفت قرار دیا گیا یہ زلزلہ ملک کے 11 اضلاع میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سبب بنا ہے۔